آج کل ہر دوسرا شخص یا تو پیسے بچانے کے مشورے دے رہا ہے یا پھر سرمایہ کاری کے گُر سکھا رہا ہے۔ ”اگر آپ ماہانہ بیس ہزار بچانا شروع کر دینگے تو کتنے برسوں میں کروڑ پتی ہو جائینگے...“ یا ”اگر آپ کے پاس ایک کروڑ ہوں تو انہیں دس کروڑ میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے..“ میں نہیں جانتا کہ اِس قسم کے مشورے دینے والے خود کتنے دنوں میں کروڑ پتی بنے مگر جس قسم کا اُنکا حلیہ ہوتا ہے اسے دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے انہیں کسی نے ماہانہ تنخواہ پر اِس کام پر مامور کر رکھا ہو۔ حاشاوَکَلّا میرا مقصد کسی کا مذاق اڑانا ہر گز نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو مجھے اِس بات کی بے حد خوشی ہے کہ لوگوں کو یہ مفت کے مشورے دستیاب ہیں ورنہ ہمیں تو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ اور سیونگ اکاؤنٹ میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کبھی کبھار پی ٹی وی کے خبرنامے میں اسٹاک مارکیٹ کی خبریں کانوں میں پڑا کرتی تھیں کہ آج بیس کمپنیوں کے حصص میں تیزی دیکھنے میں آئی، تینتیس کے بھاؤ میں کمی ہوئی جبکہ پندرہ کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اُس وقت ہم سمجھا کرتے تھے کہ یہ سب کچھ کسی دوسری دنیا یا مریخ میں ہوتا ہے جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ اب تو دنیا ہی بدل گئی ہے، ایک انگلی کے اشارے پر ہر قسم کا ماہرانہ تجزیہ مل جاتا ہے، یوٹیوب چینلز ہیں جو اسٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانے (یا ڈبونے) کے طریقے سمجھاتے ہیں اور انسٹاگرام پر ایسے ایسے ’گرومنتر‘ موجود ہیں جو مفت میں آپ کا مالیاتی مشیر بننے کیلئے حاضر ہیں۔ لیکن اِن تمام باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو سرمایہ کاری، بچت یا پیسے بنانے کے طریقے سمجھ میں آ گئے ہیں۔ ایک عام آدمی اب بھی اِن باتوں سے بیگانہ ہے، یہ عام آدمی تنخواہ پر جیتا ہے اور اگر کسی طرح چار پیسے جوڑ لے تو اُس کا پلاٹ خرید لیتا ہے یا قومی بچت کے سرٹیفکیٹ لے کر رکھ لیتا ہے۔ رِسک لینے کا رِسک وہ نہیں لے سکتا۔ قومی بچت یا بینک میں پیسے رکھنے کا تھوڑا بہت فائدہ اسی صورت میں ہوتا ہے اگر شرح سود بیس بائیس فیصد ہو، لیکن اگر مہنگائی کی شرح قومی بچت کے منافع سے زیادہ ہو تو آپ کے روپے کی قدر گرتی رہتی ہے اور آپ کا سرمایہ بڑھنے کی بجائے کم ہو جاتا ہے۔ رہی بات پلاٹ کی تو اگر قسمت اچھی ہو اور پلاٹ یا اپارٹمنٹ کا قبضہ مناسب قیمت اور معینہ مدت میں مل جائے تو بندے کو چاہیے کہ سجدہ شکر بجا لائے بصورتِ دیگر غلام عباس کے افسانے ’کتبہ‘ میں شریف حسین جیسے انجام کیلئے تیار رہے۔
1920 ءکی دہائی میں چارلس پونزی نامی ایک اطالوی شخص نے بہت شہرت حاصل کی تھی، وہ اُس زمانے کا ڈبل شاہ تھا جو لوگوں کو پینتالیس دن میں پچاس فیصد یا نوّے دنوں میں سو فیصد منافع کا لالچ دیا کرتا تھا، اُس نے ہزاروں لوگوں کو بیوقوف بنا کر لوٹا۔ اسی کے نام پر ہر دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم پونزی اسکیم کہلاتی ہے۔ دھوکے باز شخص یا کمپنی لوگوں کو بہت کم وقت میں غیر معمولی منافع کا لالچ دیتی ہے، شروع میں جب کچھ لوگ پیسہ لگاتے ہیں، تو انہیں واقعی ’منافع‘ دیا جاتا ہے، یہ دیکھ کر دیگر لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں اور بڑی رقم جمع کروا دیتے ہیں، اصل میں کوئی کاروبار نہیں ہو رہا ہوتا، صرف ایک ہاتھ سے پیسہ لیکر دوسرے ہاتھ (پرانے ممبرز) کو دیا جا رہا ہوتا ہے تاکہ سسٹم چلتا رہے۔ یہ اسکیم تب تک چلتی ہے جب تک نئے لوگ شامل ہوتے رہیں، جیسے ہی نئے سرمایہ کاروں کی آمد کم ہوتی ہے یا پرانے لوگ اپنی اصل رقم نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو یہ سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور فراڈیا رقم لے کر غائب ہو جاتا ہے۔ اب لوگ نسبتاً سیانے ہو گئے ہیں، ڈبل شاہ کیس نے لوگوں کو چوکنّا کر دیا ہے، انٹرنیٹ نے بھی آگاہی پیدا کر دی ہے، سو پونزی اسکیم کا طریقہ کار بھی بدل گیا ہے۔ آج کی پونزی اسکیم ہاؤسنگ سوسائٹی یا اپارٹمنٹ میں سرمایہ کاری ہے۔ بڑے شہروں میں رہائشی اور کمرشل اپارٹمنٹس کی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں، بلڈرز انہیں فروخت کرنے کیلئے مارکیٹنگ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو سبز باغ دکھا کر لوگوں کو راغب کرتی ہیں، سادہ لوح عوام اِن میں اپنی جمع پونجی لگاتے ہیں اور اُس اچھے وقت کا انتظار کرتے ہیں کہ انہیں وعدے کے مطابق دو سے تین سال میں ویسا اپارٹمنٹ ملے گا جیسا ٹی وی اشتہار میں دکھایا گیا تھا۔ اپارٹمنٹ کی عمارت کا ڈھانچہ چونکہ تیار ہوتا ہے اِس لیے خریدار بلڈر کی بات پر یقین کر لیتا ہے کہ اب تو فقط ’فِنشنگ‘ باقی ہے لہٰذا آپ کو جلد ہی قبضہ مل جائیگا۔ اُس معصوم کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اصل کام ہی فنشنگ ہے جو اگلے کئی برس تک مکمل نہیں ہوتا۔ اِس پونزی اسکیم میں بلڈر آپ کا پیسہ استعمال کرتا ہے اور آپ اُسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، داد رسی کیلئے نہ کوئی محتسب ہے اور نہ کوئی حکومتی ادارہ۔ اب تو ایسی ایسی پونزی اسکیمیں بھی ہیں کہ جن میں بلڈر محض اپنے نام کا استعمال کرکے لوگوں سے پیسے اینٹھ لیتا ہے اور بدلے میں نہ کوئی پلاٹ دیتا ہے اور نہ اپارٹمنٹ، اگر خریدار پیسے واپس مانگے تو انگوٹھا دکھا کر کہتے ہیں کہ پچیس فیصد کٹوتی کرکے باقی پیسے قسطوں میں لینے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں۔ یہ کھلی ڈکیتی ہے جو آج کل بلڈرز اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں کر رہی ہیں۔
اِس ضمن میں دو مثبت باتیں بھی سن لیں۔ اب حکومت نے تمام کام ڈیجیٹل کر دیا ہے، پلاٹ کا اسٹام پیپر نکلوانے سے لے کر رجسٹری کروانے تک، سب کچھ آن لائن ہے، اِس سے فراڈ کی گنجائش کافی کم ہو گئی ہے تاہم دھوکہ دہی سے پلاٹ یا اپارٹمنٹ کے پیسے کھا جانے والی اسکیم اپنی جگہ موجود ہے۔ دوسرا کام یہ ہوا ہے کہ پانچ مرلے کے پلاٹ پر گھر بنانے کیلئےحکومت بینکوں کے ذریعے محض پانچ فیصد شرح سود پر قرضہ دے رہی ہے، یہ سہولت صرف اُن لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے پلاٹ خرید لیاہے اور اب پہلی مرتبہ گھر بنانا چاہتے ہیں۔ اِس قرضے کو دس سے بیس برس میں واپس کیا جائے گا اور اِس کی قسط اتنی ہی بنے گی جتنا وہ اِس وقت گھر کے کرائے کی مد میں خرچ کر رہے ہیں۔ چھوٹا سا گھر بنانے کا یہ بہترین موقع ہے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے، خیال صرف اِس بات کا رہے کہ کہیں آپ کسی جعلی یا فراڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیسے نہ پھنسا بیٹھیں، اُس صورت میں آپ کی مدد کوئی نہیں کرے گا اِلّا یہ کہ آپ ٹرمپ کے بہنوئی ہوں۔