ہم اکثر سنتے ہیں روس گرم پانیوں کی تلاش میں کابل آیا تھا، حقیقت کیا ہے آج ہم یہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغان جہاد کے دوران آئی ایس آئی افغان بیورو کی سربراہی کرنیوالے بریگیڈیئر یوسف اپنی کتاب ’’The Bear Trap‘‘ کے صفحہ نمبر 143 پر لکھتے ہیں ’’کریملن میں ایک سازش تیار کی گئی کہ وزیراعظم حفیظ اللہ امین، نور محمد تراکئی کو اقتدار سے ہٹا کر خود صدارت کا منصب سنبھال لیں۔ روسی خفیہ ادارے KGB کے مطابق یہ فیصلہ انکی رائے کے برعکس کیا گیا کیونکہ KGB امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں بطور طالبعلم گزارے گئے دنوں کے حوالے سے حفیظ اللہ امین سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار تھی اور یہ شبہ بھی تھا کہ اسکے CIAسے تعلقات ہیں۔ لیکن ایک بار پھر برزنیف نے KGBکی رائے مسترد کر دی۔ تراکئی کو مشاورت کیلئے ماسکو طلب کیا گیا اور اس دوران حفیظ اللہ امین نے کابل میں بغاوت کی تیاریاں مکمل کرلیں۔‘‘ 11ستمبر 1979ء کو نور محمد تراکئی ماسکو سے واپس پہنچے تو حفیظ اللہ امین نے کابل ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔ نور محمد تراکئی نے بلا توقف اپنا ارادہ ظاہر کردیا۔ دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ حفیظ اللہ امین نے کہا ،تمہیں اقتدار سے دستبردار ہوجانا چاہئے ۔بہر حال چند روز بعد نور محمد تراکئی نے حفیظ اللہ امین کو ارگ شاہی محل میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ حفیظ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ دعوت اسے راستے سے ہٹانے کیلئے دی گئی ہے مگر چونکہ اسے سوویت حکام کی اشیر باد حاصل تھی اس لئے وہ پولیس چیف سید دائود ترین کے ہمراہ ارگ پیلس چلا گیا۔ محل میں داخل ہوتے ہی صدارتی محافظوں نے فائرنگ کر دی۔ پولیس چیف سید دائود ترین مارا گیا،حفیظ اللہ امین بچ نکلا اور وزارت دفاع جا کر پناہ لی۔ وزارت دفاع اور افغان فوج حفیظ اللہ امین کے کنٹرول میں تھی اور کریملن میں تیار کی گئی سازش کے مطابق منصوبے کے دوسرے حصے پر عملدرآمد کا وقت آن پہنچا تھا۔ 27اپریل1978ء کو ’’انقلاب ثور‘‘کے وقت بھی حفیظ اللہ امین کے احکامات سے فوج نے بغاوت کی اور اب ایک بار پھر حفیظ اللہ امین کے حکم پر افغان فوج کی 4thآرمرڈکور کے ٹینکوں نے کابل کی طرف پیشقدمی شروع کردی۔جلد ہی اہم سرکاری عمارتوں کا انتظام سنبھال لیا گیا۔ حفیظ اللہ امین فوجی دستوں کے ہمراہ ارگ پیلس میں داخل ہوئے، نور محمد تراکئی کو گرفتار کرلیا گیا۔16ستمبر1979ء کی شام ایک اور انقلاب آچکا تھا، آٹھ بجے ریڈیو افغانستان سے خبر نشر ہوئی اور اگلے روز ’’کابل ٹائمز‘‘میں خبر شائع ہوئی کہ نور محمد تراکئی مزید قیادت کرنے کے قابل نہیں، انہوں نے معذرت کرلی ہے،حفیظ اللہ امین PDPAکے نئے جنرل سیکرٹری، انقلابی کونسل کے سربراہ اور افغان صدر منتخب ہوگئے۔ اس فوجی انقلاب کے دوران نور محمد تراکئی کو فوری طور پر قتل نہیں کیا گیا تھا تاہم 8اکتوبر 1979ء کوحفیظ اللہ امین کے حکم پر سابق صدر نور محمد تراکئی کے منہ پر تکیہ رکھ کر انکی جان لے لی گئی ۔ روسی صدر برزنیف کو جلدہی اِدراک ہوگیا کہ حفیظ اللہ امین پر بھروسہ کرکے انہوں نے غلطی کی ہے۔ KGBجو پہلے ہی حفیظ اللہ امین کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھی، اس نے افغان صدارتی محل میں باورچی کے روپ میں موجود اپنے ایک ایجنٹ کے ذریعے حفیظ اللہ امین کو زہر دیکر قتل کرنیکی کوشش کی مگر چونکہ حفیظ اللہ امین اپنے کھانے پینے کے معاملے میں بہت محتاط تھے اسلئے یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اب ماسکو کی پولٹ بورو نے KGB ایجنٹس اور روسی فوج کے کمانڈوز کے ذریعے براہ راست مداخلت کرکے حفیظ اللہ امین کا تختہ اُلٹانے اور من پسند حکمران تخت پر بٹھانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔27دسمبر1979ء کو بظاہر کابل میں حالات پرامن اور معمول کے مطابق تھے مگر ڈیڑھ سال کے مختصر عرصہ میں تیسرے فوجی انقلاب کا وقت آن پہنچا تھا۔27اپریل 1978ء کو ’’انقلاب ثور‘‘ کے ذریعے سردار دائود خان اور انکے اہلخانہ کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔16ستمبر 1979ء کو حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند روز بعد نور محمد تراکئی کو مروادیا اور اب محض تین ماہ بعد ہی انکے کمیونسٹ مہربان انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے آرہے تھے۔ روسی فوج کے کمانڈوز کو ایئر لفٹ کرکے کابل اُتارا گیا۔KGBاسپیشل فورسز نے افغان صدارتی محل پر دھاوا بودل دیا۔حفیظ اللہ امین کو انکے اہلخانہ، ساتھیوں اور محافظوں سمیت گولیوں سے بھون دیا گیا۔جلد ہی تمام اہم عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا گیا۔افغان ریڈیو سے خبر نشر ہوئی کہ PDPAکے سینئر رہنما ببرک کارمل نے صدر مملکت کا منصب سنبھال لیا ہے اور پھر روسی افواج کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ روسی مداخلت سے متعلق ہمارے ہاں یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ سوویت یونین گرم پانیوں کی تلاش میں افغانستان آیا لیکن اس مداخلت کے اسباب کچھ اور تھے۔ حفیظ اللہ امین کے بارے میں ماسکو کو اطلاعات مل رہی تھیں کہ وہ امریکہ سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے تھے اور واضح طور پر کہہ چکے تھے کہ افغانستان کی خودمختاری کو بشمول روس کسی ملک کے پاس گروی نہیں رکھیں گے۔ افغانستان کی سنگلاخ سرزمین سرخ انقلاب کو جذب کرنے سے قاصر تھی، اسلام پسندوں کی طرف سے مزاحمت بڑھتی جا رہی تھی۔اس دوران ایران میں اسلامی انقلاب آگیا، پاکستان میں عنان اقتدار سنبھالنے والے جنرل ضیاالحق بھی اسلامی نظام کے نفاذ کی باتیں کر رہے تھے ،روس کو خوف تھا کہ اگر افغانستان سے بوریا بستر گول ہوگیا تو دنیا بھر میں کمیونزم کی ہوا اُکھڑ جائے گی۔ امریکی مصنف David s Painter اپنی تصنیف The Cold war کے صفحہ نمبر 92پر لکھتے ہیں کہ سوویت حکام کو خوف تھا کہ افغانستان میں اپوزیشن کی کامیابی سے مسلم شدت پسند اقتدار میں آسکتے ہیں جس سے خطے میں ایران کا اثرو رسوخ بڑھ جائیگا اور ممکنہ طور پر سوویت یونین کی وسط ایشیائی ریاستوں میں حالات خراب ہوسکتے ہیں۔