انسانی تاریخ کا ہر دور کسی نہ کسی انقلاب سے عبارت رہا ہے۔ کبھی آگ کی دریافت نے انسان کی زندگی بدل دی، کبھی پہیے کی ایجاد نے سفر کو نئی جہت دی، اور کبھی علم و حکمت کے چراغ نے تاریک زمانوں کو روشنی عطا کی۔ مگر موجودہ دور کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ ہے سائنس۔ یہ وہ قوت ہے جس نے دنیا کی ہیئت بدل دی، فاصلے سمیٹ دیے اور انسانی ذہن کو حیرت انگیز امکانات سے روشناس کرایا۔آج انسان نے آسمانوں کو مسخر کر لیا ہے۔ چاند پر قدم رکھ دیا ہے، مریخ کی مٹی کا تجزیہ کر رہا ہے، اور سمندروں کی تہہ میں پوشیدہ رازوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے انسان کی سوچ کا ایک نیا ہمزاد پیدا کر دیا ہے۔ وہ کام جو کبھی برسوں میں ہوتے تھے اب لمحوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں خبر چند سیکنڈ میں نہ پہنچ سکے۔ بظاہر یہ عروج، یہ ترقی اور یہ رفتار انسانی کامیابی کی معراج معلوم ہوتی ہے۔
مگر اس چمکتی ہوئی ترقی کے پردے کے پیچھے ایک سوال مسلسل جنم لیتا ہےکہ کیا انسان کی انسانیت بھی اسی رفتار سے ترقی کر رہی ہے؟بدقسمتی سے اس سوال کا جواب اتنا روشن نہیں جتنا سائنس کا افق نظر آتا ہے۔ انسان نے اپنی عقل سے بے شمار سہولتیں پیدا کیں، مگر اسی عقل سے ایسی ہولناک قوتیں بھی پیدا کر لیں جو لمحوں میں زندگی کو موت میں بدل سکتی ہیں۔ وہ جنگیں جو کبھی مہینوں تک میدانوں میں لڑی جاتی تھیں، اب ایک بٹن کے دبنے سے ہزاروں زندگیاں نگل لیتی ہیں۔ بارود اور میزائلوں نے انسان کو اتنی طاقت دے دی ہے کہ وہ پوری بستیوں کو لمحوں میں مٹا سکتا ہے۔
یہ عجیب تضاد ہے کہ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے، انسان کے دل سکڑتے جا رہے ہیں۔ رابطوں کی رفتار تیز ہو گئی ہے مگر تعلقات کی گرمی مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ انسان اسکرینوں کے ذریعے دنیا سے جڑا ہوا ہے، مگر دلوں کے فاصلے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے کہ انسان چاند تک پہنچ گیا مگر پڑوسی کے دل تک نہیں پہنچ سکا۔آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ نئے ہتھیار نہیں بلکہ نیا شعور ہے۔ ایک ایسا شعور جو انسان کو یہ یاد دلائے کہ سائنس کا مقصد انسان کو تباہ کرنا نہیں بلکہ اس کی خدمت کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنی تیزی سے معلومات پہنچا سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان کتنی محبت، اعتماد اور سمجھ بوجھ پیدا کر سکتی ہے۔
عدم تشدد صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی رویہ ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھا جائے، طاقت کے باوجود رحم باقی رکھا جائے اور ترقی کے باوجود انسانیت کو فراموش نہ کیا جائے۔ اگر سائنس کی طاقت کے ساتھ عدم تشدد اور انسان دوستی کی روشنی شامل ہو جائے تو یہی ترقی انسانیت کے لیے رحمت بن سکتی ہے۔آج دنیا کے کئی حصوں میں جنگ، نفرت اور تعصب کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ طاقتور قومیں اپنی برتری کے نشے میں کمزوروں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ کبھی کسی شہر پر بم گرتے ہیں، کبھی کسی بستی کے معصوم بچے ملبے کے نیچے دب جاتے ہیں، اور کبھی کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ انسان کی ایجاد کردہ مشینیں تو ترقی کر گئی ہیں، مگر انسان کا دل جیسے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ وہ قومیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتیں جو انسانیت کے اصولوں کو بھلا دیتی ہیں۔ طاقت کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ وہ کسی کو جھکا دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کسی کو اٹھا دے۔
اصل عظمت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار کے باوجود رحم کرنا سیکھ لے، اپنی قوت کے باوجود معاف کرنا سیکھ لے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ سائنس کا عروج ایک نعمت ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ اخلاق، انصاف اور انسانیت کا چراغ نہ جلے تو یہی نعمت ایک خطرہ بن سکتی ہے۔ ترقی کا اصل معیار صرف یہ نہیں کہ ہم کتنی تیز رفتار گاڑیاں بنا سکتے ہیں یا کتنے طاقتور کمپیوٹر ایجاد کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انسان کی جان، عزت اور وقار کی کتنی حفاظت کر سکتے ہیں۔انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عقل نہیں بلکہ اس کا دل ہے۔ وہ دل جو درد محسوس کرتا ہے، جو دوسرے کے آنسو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے، جو ظلم کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اگر یہی دل مر جائے تو پھر ساری ترقی بے معنی ہو جاتی ہے۔دنیا کو آج ایک نئے توازن کی ضرورت ہے۔ ایسا توازن جس میں سائنس کی روشنی اور انسانیت کی حرارت ایک ساتھ موجود ہوں۔ جہاں ٹیکنالوجی ترقی کرے مگر دلوں میں محبت بھی زندہ رہے۔ جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو۔ جہاں طاقت ہو مگر ظلم نہ ہو۔
اگر انسان نے اپنی عقل کے ساتھ اپنے دل کو بھی زندہ رکھا، اگر اس نے سائنس کے ساتھ انسانیت کی قدر کو بھی قائم رکھا، تو یہ دور انسانی تاریخ کا سنہرا ترین باب بن سکتا ہے۔ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ایک دن انسان اپنی ہی بنائی ہوئی مشینوں اور طاقتوں کے درمیان کھڑا ہو کر خاموشی سے یہ سوال کرے گا:ہم نے آسمان کو تو فتح کر لیا…کیاانسان نے اپنی انسانیت کو فتح کیا ہے؟