زیادہ پرانی بات نہیں، بارہ تیرہ برس پہلے تک ہر سال پی ٹی وی ایوارڈ کی تقریب ہوا کرتی تھی، میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ آسکر کی ٹکر کی تقریب ہوتی تھی مگر ہمارے لیے یہ آسکر سے کم بھی نہیں تھی۔ مجھے 1986 کے پی ٹی وی ایوارڈز نہیں بھولتے، شعیب منصور اُس تقریب کے لکھاری اور ہدایتکار تھے اور یہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے بہترین تقریب تھی، مجھے اِس لیے یاد ہے کہ ہم نے وہ تقریب ویڈیو کیسٹ پر ریکارڈ کی تھی اور کئی ماہ تک اسے بار بار چلا کر دیکھا تھا۔ چالیس برس گزر گئے، پُلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر گیا، اب تو یوں لگتا ہے جیسے زمانہ قبل از مسیح کا کوئی قصہ ہو۔ جین زی کے کسی بچے کو یہ بات بتائیں گے تو وہ یوں دیکھے گا جیسے ہم مریخ سے اُتری ہوئی کوئی مخلوق ہوں۔ وہ بھی سچّے ہیں، ہم بھی تو اُن کی پسند نا پسند اور ذوق کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اور اگر جانتے بھی ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں، وہ بھی یہی کرتے ہیں، حساب برابر۔
پی ٹی وی ایوارڈز دو وجوہات کی بنا پر یاد آئے۔ ایک آسکرز اور دوسرے شجاعت ہاشمی۔ آسکرز کی بات بعد میں، پہلے شجاعت ہاشمی کا ذکر ہو جائے جو چند دن پہلے وفات پا گئے۔ جین زی کے لیے بتا دوں کہ شجاعت ہاشمی پی ٹی وی کا جیکب ایلورڈی تھا۔ شجاعت ہاشمی کا تعلق ٹی وی فنکاروں کے اس کلاسیکی گروہ سے تھا جنہوں نے آواز کی ابتدائی تربیت ریڈیو پاکستان پر حاصل کی تھی۔ وہ ٹی وی کیمروں کے سامنے ایک ایسے منجھے ہوئے فنکار کے طور پر ابھرے جو سانس لینے کی تکنیک سے لے کر عربی اور فارسی الاصل الفاظ کی مشکل ادائیگی اور لب و لہجے کے تمام رموز و اوقاف سے واقف تھے۔ اُس زمانے میں ریڈیو کو دو وجوہات کی بنا پر درست تلفظ کا سب سے مستند ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اوّل یہ کہ زبان و بیان کے بڑے اساتذہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھے جو 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تھے۔ جب شجاعت ہاشمی جیسے نوجوانوں نے پاکستانی میڈیا میں قدم رکھا، تو وہ خوش قسمت تھے کہ انہیں عزیز الرحمن، اخلاق احمد دہلوی اور مصطفیٰ علی ہمدانی جیسے کہنہ مشق اساتذہ کی رہنمائی میسر آئی۔ اِن قد آور شخصیات کا انتخاب انتہائی سخت معیار پر کیا جاتا تھا، مثلاً کسی بھی ہنگامی صورتحال (دشمن کا حملہ یا زلزلہ وغیرہ کے واقعات) میں اِن افراد سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ مائیکروفون سنبھالیں اور سامعین کو مصروف رکھنے کیلئے کم از کم ایک گھنٹہ مسلسل فی البدیہہ گفتگو کر سکیں، شجاعت ہاشمی نے ان اساتذہ کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ لیکن آواز کی تربیت ٹی وی اداکاری جیسے ہمہ جہت کام کا محض ایک حصہ تھی، جس میں جسمانی حرکات و سکنات، اشارے اور چہرے کے تاثرات بھی شامل تھے۔
شجاعت ہاشمی نے اسٹیج ڈراموں میں بھی کام کیا تھا لیکن اسٹیج کے پس منظر سے آنیوالے دیگر اداکاروں کے برعکس، شجاعت اپنی جسمانی حرکات کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور انتہائی جذباتی حالات میں بھی کبھی مبالغہ آرائی (Over-acting) سے کام نہیں لیتے تھے۔ میرے جیسے لوگ جن کا ’کرش‘ اسّی کی دہائی ہے، امجد اسلام امجد کے شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ’وارث‘ سے شجاعت ہاشمی کے پرستار بن گئے حالانکہ اُس سیریل میں عابد علی، محبوب عالم، منور سعید، فردوس جمال، اورنگزیب لغاری اور عظمیٰ گیلانی جیسے اداکاروں کی کہکشاں تھی۔ شجاعت ہاشمی کا مقابلہ ایک اور ابھرتے ہوئے ستارے عابد علی سے تھا۔ اسکرپٹ میں ان کے رویے اور انداز کو عابد علی کے کردار سے ممتاز کرنے کیلئے کوئی واضح اشارے موجود نہیں تھے۔ ڈائریکٹر سے مشورے کے بعد شجاعت نے ایک مخصوص انداز اپنایا جس میں اپنی مونچھوں کو تاؤ دینا اور وقتاً فوقتاً ایک خاص اسٹائل سے گلا صاف کرنا شامل تھا۔ اُن کا یہ انداز سپرہٹ ہوا۔ بلیک اینڈ وائٹ دور میں شجاعت ہاشمی نے کنور آفتاب کے پروڈیوس کردہ تیز رفتار کامیڈی ڈراموں میں کچھ شاندار کردار ادا کیے، لیکن دیگر کئی اداکاروں کی طرح وارث انکے ابتدائی کیریئر کا نقطہ عروج ثابت ہوا اور اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وارث کے بعد شجاعت ہاشمی ایک ایسا نام بن گئے جنہیں اسکرین پر دیکھ کر ناظرین کو اطمینان ہوتا تھا کہ اب اداکاری کے نام پر چیخ و پکار نہیں ہوگی بلکہ خاموشی اور ٹھہراؤ سے جذبات کی عکاسی کی جائے گی۔ ان کی آواز کا جادو ایسا تھا کہ اگر وہ اسکرین پر نہ بھی ہوں اور صرف پسِ پردہ ان کی آواز سنائی دے تو سامع کو ایک معتبر شخصیت کا احساس ہوتا تھا۔ آج کے دور میں جہاں ’وائرل‘ ہونے کی دوڑ میں فنکار اپنے لہجے اور وقار کو داؤ پر لگا دیتے ہیں، وہاں شجاعت ہاشمی جیسے لوگ یاد دلاتے ہیں کہ فن صرف چہرہ دکھانے کا نام نہیں، بلکہ ایک پوری تہذیب کو پیش کرنے کا نام ہے۔
اب ذرا ذکر ہو جائے آسکرز کا۔ چند روز قبل جب لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں ستاروں کی کہکشاں اتری تو میں سوچ رہا تھا کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ایک طرف وہ پی ٹی وی ایوارڈز تھے جس کے انتظار میں ہم گھڑیاں گنتے تھے، شرطیں لگاتے تھے، لاہور اور کراچی میں مقابلہ ہوتا تھا کہ کون زیادہ تمغے جیتے گا۔ وہ تقریب صرف ایوارڈ دینے کی نہیں تھی، بلکہ ایک قسم کا قومی تہوار ہوتا تھا۔ پورا ملک ٹی وی کے سامنے اس طرح بیٹھتا تھا جیسے آج کل ہم ورلڈ کپ کا فائنل دیکھتے ہیں۔ جب بہترین اداکار کا نام پکارا جاتا تھا تو دل دھڑکتے تھے کہ آیا اس بار حقدار کو حق ملا یا نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے اُن ایوارڈز کا بھی ہم نے وہی حشر کیا جو ہر اچھی روایت کا کرتے ہیں۔ پی ٹی وی ایوارڈز علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کئے جانے لگے، کہیں چھوٹے اسٹیشنز میں احساس محرومی پیدا نہ ہو جائے، اِس ڈر سے ہم نے میرٹ کی بجائے غیر علانیہ ’کوٹہ سسٹم‘ اپنا لیا۔ نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا، اُن ایوارڈز کی ساکھ ختم ہو گئی اور بالآخر 2013 کے بعد ایوارڈ کی تقریب نہیں ہوئی۔ یہ خلا پھر نجی ٹی وی چینلز نے پُر کیا، ہم ٹی وی کے ایوارڈز کی تقریب اِسکی مثال ہے، یہ تقریب اکثر پاکستان سے باہر بھی منعقد ہوتی ہے اور اِس کی پروڈکشن اور چکا چوند کسی بھی عالمی معیار کی تقریب سے کم نہیں ہوتے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اِس میں عابد علی، شجاعت ہاشمی، محبوب عالم، خالدہ ریاست، روحی بانو نہیں ہوتے۔ ’ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سے کہیں جسے‘!