• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی زمانے میں بلکہ ماضی قریب میں تیل کی بڑی اہمیت تھی جو آج بھی ہے، لیکن ڈیٹا سے کم۔ آج ڈیٹا نے تیل سے وہ جگہ چھین لی ہے۔ ڈیٹا سے مستقبل کی صحیح اور درست منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے بلکہ مستقبل کی پیشگوئی بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر بلوچستان کے مستقبل کی پیشگوئی کرنی ہو تو ڈیٹا کے دو اعداد و شمار آپ کو بتا سکتے ہیں کہ پانچ یا دس سال بعد والا بلوچستان کیسا ہو گا۔ اور اس پیشگوئی میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔ اب اس پر حکومتی دعوے، اعلانات یا منصوبہ بندی کچھ بھی ہو، ان پر کم ہی یقین کیا جا سکتا ہے۔اب وہ دو اعداد و شمار کون سے ہیں اور ان سے بلوچستان کے مستقبل کا کیسے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، انہیں دیکھتے ہیں۔ موجودہ جدید دنیا میں تعلیم اور بجلی کے بغیر کسی معیشت کا کوئی تصور نہیں۔ تو انہی دو شعبوں میں بلوچستان کا مستقبل تلاش کرتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک پرانی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اسکول میں داخلے کی شرح 56 فیصد تک تھی۔ جبکہ یونیسیف کی تازہ رپورٹس کے مطابق اب اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح 69 فیصد ہے اور تقریباً 35 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔

بجلی کے بغیر معیشت کا کوئی تصور نہیں۔ موجودہ دور میں بجلی کا نہ ہونا مطلب انٹرنیٹ تک رسائی نہیں۔ صحت، زراعت، تعلیم، پانی کی سپلائی، صنعت غرض کوئی بھی جدید مداخلت بجلی کے بغیر ممکن نہیں۔ شاید اسی لیے بلوچستان آج بھی سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔ بجلی نہ ہونے کا تناسب جو آج سے دس سال پہلے تھا، تقریباً کم و بیش آج بھی اتنا ہی ہے۔ دس سال پہلے بھی 60 فیصد گھرانے بجلی سے محروم تھے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔اب اگر تعلیم کے شعبے کو لیا جائے اور اگر یہ سارے بچے ایمرجنسی لگا کر آج اسکول میں داخل بھی کر لیے جائیں تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کم از کم دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ یہاں ایمرجنسی تو کیا، روٹین میں کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اب بجلی کی صورتحال پر نظر دوڑاتے ہیں۔ اس کیلئے بلوچستان میں طویل چار سال انرجی ڈیپارٹمنٹ کو ہیڈ کرنے والے ایک بہترین دماغ خلیق نذر کیانی سے رابطہ کیاانہوں نے نیپرا کی حالیہ رپورٹ کو لے کر جو فگرز شیئر کیے۔ وہ میرے لیے حیران اور پریشان کرنے والے تھے۔ ملک میں نیپرا بجلی کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ ہے جو ہر سال بجلی کی صنعت پر ایک رپورٹ جاری کرتا ہے۔ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت بلوچستان میں گھروں کی تعداد 23 لاکھ 18 ہزار 519 تھی۔ ان میں سے صرف 5 لاکھ 43 ہزار 843 گھروں کو بجلی کیسکو فراہم کر رہی تھی۔ اب اگر کمرشل، ٹیوب ویلز، اسٹریٹ لائٹس وغیرہ بھی اس میں شامل کر لیں تو یہ تعداد 7 لاکھ 33 ہزار 593 تک پہنچ جاتی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ پندرہ ہزار صارفین کے الیکٹرک سسٹم پر تھے۔ اس طرح مجموعی طور پر بلوچستان میں بجلی کے صارفین کی تعداد 8 لاکھ 48 ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے۔بلوچستان کے تین اضلاع ایسے ہیں جہاں بجلی کی سہولت ایک سے پانچ فیصد تک ہے۔ آواران میں صرف دو فیصد گھروں میں بجلی کی سہولت ہے اور 98 فیصد بغیر بجلی کے ہیں جبکہ واشک میں صرف 5 فیصد گھروں میں بجلی کی سہولت اور ضلع شیرانی میں صرف 3 فیصد گھرانے بجلی کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بلوچستان میں تقریباً 40 فیصد گھرانوں کو گرڈ والی بجلی کی سہولت حاصل ہے جبکہ 60 فیصد گھر بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔موجودہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے 29 ہزار 639 زرعی ٹیوب ویلز کو تین ماہ میں سولر پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب معلوم نہیں کہ حقیقت میں کتنے ٹیوب ویلز سولر پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اب جس صوبے میں تعلیم اور بجلی کا ڈیٹا یہ بتاتا ہو کہ دس سال پہلے بھی تقریباً اتنے ہی تناسب سے بچے اسکول سے باہر تھے اور بالکل یہی تناسب بجلی سے محروم علاقوں کا رہا تو ترقی تو زیرو رہی۔ اب جب حکومت کی منصوبہ بندی کو دیکھتے ہیں اور آبادی میں اضافے کی شرح کو مد نظر رکھتے ہیں توا سکولوں میں داخلے اور بجلی میں سرمایہ کاری آبادی میں اضافے کے اعتبار سے زیرو لگتی ہے۔ اس لحاظ سے بلوچستان میں ترقی کے حوالے سے مستقبل کا اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں ہے۔ لگتا ہے دس سال بعد بھی بلوچستان موجودہ صورتحال کی نسبت بدتر یا زیادہ سے زیادہ ایسا ہی حالات میں ہو گا۔ جو یقیناً بدقسمتی کی بات ہے۔

تازہ ترین