• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیگریشن اصلاحات کے خلاف لیبر پارٹی میں بغاوت

حکومت کی طرف سے امیگریشن کے حوالے سے متعارف کرائے جانے والی اصلاحات کے خلاف لیبر پارٹی میں بغاوت ہوتی نظر آ رہی ہے اور اصلاحات کے مخالفین نے کہا ہے کہ اگر وزراء اس منصوبے سے پیچھے نہ ہٹے تو پارلیمنٹ میں علامتی ووٹنگ کرا کر پارٹی کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کر دیں گے۔

ہوم سیکرٹری محمود کے امیگریشن کے مجوزہ منصوبے کے تحت تارکین وطن کو برطانیہ میں مستقل رہائش یا غیر معینہ قیام کی اجازت کی مدت کو پانچ سال سے بڑھا کر 10 برس کر دی جائے گی، کیئر ورکرز اور سیاسی پناہ گزینوں کو بھی زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کو متعارف کرانے کے لیے ووٹنگ کرا کر قانون سازی کی ضرورت نہیں لیکن مخالفین اپنے تحفظات اجاگر کرنے کے لیے پارلیمانی طریقہ کار استعمال کر کے نان بائنڈنگ ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔

ہوم آفس کے مطابق 2021 سے 2024 تک نیٹ مائیگریشن کے ذریعے آبادی میں 26 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا اور 2026 سے 2030 تک تقریباً 16 لاکھ افراد مستقل رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

حکومتی مجوزہ اصلاحات کا اطلاق پہلے سے برطانیہ میں موجود تارکین وطن پر بھی ہوگا جبکہ حکومت عبوری انتظامات کے تحت کچھ موجودہ تارکین وطن کے لیے دس سال انتظار کی شرط میں نرمی کر سکتی ہے۔

ایک سو اراکین کے دستخط سے ہوم سیکرٹری کو خط بھیجنے والے رکن پارلیمنٹ ٹونی وان نے کہا ہے کہ اصلاحات سے ہنرمند افراد برطانیہ کا رخ نہیں کریں گے جس سے خزانوں کو اربوں پاؤنڈ کا نقصان ہوگا۔ ایک اور رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ غلط کام کرنے سے بہتر ہے کہ شرمندگی اٹھا کر یو ٹرن لے لیا جائے۔

کنزرویٹو پارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں مزید سخت ہونی چاہئیں، لیکن انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ان اصلاحات کی حمایت کر سکتے ہیں، اطلاعات کے مطابق لارڈز میں بھی اس پر بحث ہونے کا امکان بھی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید