برطانیہ کی حکمران جماعت شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جبکہ وزیراعظم پر عہدہ چھوڑنے کے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حکمران جماعت کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ نے قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے پارٹی کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔
حکمران جماعت کے ایک اہم رکنِ پارلیمنٹ نے بھی وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ وزیراعظم آئندہ عام انتخابات میں جماعت کی قیادت کر سکیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اقتدار کی منتقلی منظم انداز میں ہونی چاہیے تاکہ جماعت نئی قیادت کا انتخاب کر سکے۔
سیاسی حلقوں میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے بعض بااثر رہنما نئی قیادت کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس دوران مانچسٹر کے میئر اینڈی برن ہیم کی مبینہ سیاسی ملاقاتوں نے بھی سیاسی ماحول میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکمران جماعت کے اندر اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ نئی قیادت کے لیے جوڑ توڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث برطانوی سیاست میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔