• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے سال کے حملوں کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا 28 فروری کو ایران پر دوبارہ حملہ آور ہو کر پہلے ہی حملےمیں تقریباً 50کے قریب ایرانی سرکردہ رہنماؤں بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد حکومت مخالف قوتوں کو ہلہ شیری دینا کہ عوام ایران کی حکومت پر قبضہ کر لیںمگر انکی للکار کا ایسے بیکار جانا جیسے کنستر بھر دیسی گھی کا دریائی ریت پر گر کر ضائع ہو جانا۔پھر حملے جاری رکھتے ہوئے دونوں ممالک کا ایران کے 150سے زیادہ شہروں اور قصبوں پر تقریباً15000 حملے کر کے 2 ہزار کے لگ بھگ ایرانیان بشمول پونے دو سو اسکول کی معصوم بچیاں شہید اور سارے ملک کا انفراسٹرکچر تباہ کر ڈالنا۔ مگر اس کے باوجود نہ صرف ایرانی رجیم چینج کے خواب کا بکھر جانا بلکہ بہ قول CNN کے رپورٹر کے ایران کے دارالحکومت تہران میں زندگی کا تقریباً معمول پر رہنا۔اس سے میرے ذہن میں چار تاریخی مثالیں ابھرنے لگتی ہیں مگر انہیں ڈسکس کرنے سے پہلے امریکہ اور ایران کے تعلق کے ہسٹوریکل ڈائنامکس سمجھنا بہت ضروری ہے۔1951 میںنیشنل فرنٹ کے ٹکٹ پر تیل کی نیشنلائیزیشن کے ایجنڈے کیساتھ منتخب ہونیوالے وزیرِ اعظم مصدق نے جب 1953 میں تیل کی انڈسٹری قومیانے کی کوشش کی تو غیر ملکی کمپنیوں نے قانون کے مطابق یہ پالیسی قبول کرنے کی بجائے گھناؤنا کھیل کھیلا اور امریکہ اور برطانیہ نے اپنی ایجنسیوںکے ذریعے ایرانی حکومت کا تختہ الٹ کر وزیرِ اعظم مصدق کو ہٹا دیا۔ اور رضا شاہ پہلوی جسکی اس وقت تک صرف آئینی بادشاہت تھی، کو کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ بنا دیا۔ اپنے منصوبے کے عین مطابق اگلے 25 سال میں ایرانی عوام کا کھربوں ڈالر کا تیل اپنی کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ اور امریکہ لُوٹ کر لے جاتے رہے۔مگر 1978 میں 1906 کی طرح عوام دوبارہ اٹھ کھڑےہوئے اور لمبی تحریک کے بعد 1979 میں معاشی استحصال کا خاتمہ کرتے ہوئے شہنشاہیت کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ۔ پھر مذہبی حکومت سے ڈرتے ہوئے پچھلے 47 سال سےامریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں لگا کر ایرانی عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا۔ اسکے باوجود انقلابی حکومت اور عوام نے ہار نہ مانی تو 2026 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں استعماری اور استحصالی قوتوں نے یہ فرض کرنے کی حماقت کیوں کی کہ وہ اس دفعہ نظریاتی انقلاب کو ختم کر لیں گے؟ اسکا جواب ان چار تاریخی مثالوں میں ملے گا۔پہلی مثال:امریکی صدرٹرمپ کی اس معاملے میں Self-defeating سوچ کامنبع سمجھنے کیلئے ہمیں عراقی صدر صدام حسین مرحوم کے کویت پر حملے پر غور کرنا ہو گا۔ اس وقت کی امریکی ایمبیسڈر ایپریل گلیسپی، جسے امریکہ میں یہودیوں کی نمائندہ تنظیم نے سفارش کروا کےسفیر لگوایا تھا، نے حملے سے صرف 8 دن پہلے صدر صدام کو جا کر کہا تھا کہ یہ آپ لوگوں کا آپس کا معاملہ ہے۔ اگر کویت کو سزا دینے کیلئے عراق اس پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔یہ حکمت عملی تل ابیب میں طے ہوئی تھی، تاکہ مستقبل میں اسرائیل کیلئے خطرہ بننے والی مشرق وسطیٰ میں واحد عرب مضبوط فوج اور قیادت کو امریکی فورسز کے ہاتھوں کرَش کروا دیا جائے۔اسی طرح فروری 2026 میں امریکہ کو حملے کی کوئی جنگی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جاری مذاکرات میں ایران امریکی شرائط ماننے کے قریب تھا۔ مگر اسرائیل تو ایران کو امریکہ کے ہاتھوں کرش کروانا چاہتا تھا، تاکہ ایران کا میزائل سسٹم مستقبل میں کبھی اسرائیل کیلئے خطرہ نہ بن سکے اور عنقریب ہونیوالے عام انتخابات میں نیتن یاہو کی کامیابی یقینی ہو جائے۔اسی لیے امریکی یہودی لابی، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ٹرمپ کے کٹر یہودی داماد جیرڈ کُشنر نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ وینزویلا کے تیل کی طرح ایرانی تیل پر قبضے کا بہترین لمحہ بھی اب ہے۔دوسری وجہ وینزویلا کے صدر کو اپنے گھر سے اغوا کر کے امریکہ لانے کے بعد ٹرمپ کو ایک گولی چلائے بغیر پولینڈ اور آسٹریا کو فتح کرنے والے ہٹلر کی طرح، اپنے بارے غلط فہمی ہو گئی تھی کہ اس کا ہر آئیڈیا وِننگ ہوتا ہے۔ مگر ہٹلر نے اسی غلط فہمی میں اپنے جرنیلوں کے منع کرنے کے باوجود سوویت یونین پر حملہ کر کے اپنے تابوت میں کیل ٹھونک لی تھی۔ بالکل اسی طرح ٹرمپ بھی اپنی غلط فہمی میں مارا گیا ہے۔اسلامی انقلابی ایران تو وینزویلا نہیں۔ سپریم کمانڈر کی شہادت سے تو اُن کے سرفروش انقلابی پیروکار مزید بپھر گئے ہیں۔ وہ خوشی سے جان دیدیں گے مگر انقلابِ ایران کا جھنڈا گرنے نہیں دیں گے۔تیسری وجہ دنیا کی بہترین کاٹن برصغیر میں اُگتی تھی۔ مگر برصغیر پر قبضے کے بعد برٹش راج نے دنیا کی بہترین ٹیکسٹائل انڈسٹری مانچسٹر، انگلینڈ میں جا لگائی تھی۔مسٹر ٹرمپ! آپ ایرانی تیل کو برٹش کالونی برصغیر کی کاٹن اور ایران کو وینزویلا اور پانامہ سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ کسی صورت ایران کے تیل کے کنٹرولر اور حکمراں نہیں بن سکتے۔چوتھی مثال:سنتے، پڑھتے آئے ہیں کہ پچھلی صدی میں اگر کسی علاقے میں امن و امان کی اچھی صورتحال اور شرافت کا بلند لیول بیان کرنا مقصود ہوتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ یہ علاقہ اتنا اچھا ہے کہ کوئی خاتون اپنے سارے زیورات پہن کر اکیلے اپنے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر دور پیدل دوسرے گاؤں جا سکتی ہے۔ لیکن اس سے پچھلی یعنی انیسویں صدی میں برصغیر میں ایسا کم ہی ہو سکتا تھا،مسٹر ٹرمپ!موجودہ انڈسٹریل زمانےمیں تیل شاید کسی بھی ملک کیلئےسب سے بڑا زیور ہے، کیونکہ انرجی (تیل) استعمال کر کے ہی آجکل معاشرہ خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔آپ جس کسی کے پاس اچھا زیور (تیل) دیکھتے ہیں، اسے لُوٹ لینے کا منصوبہ بنا لیتے ہیں۔لیکن ہر عورت وینزویلا کی طرح کمزور نہیں ہوتی۔ کوئی عورت چیمپئن آف دی ورلڈ محمد علی کلے کی باکسر چیمپئن بیٹی لیلیٰ کی طرح بھی ہو سکتی ہے، جو مُکے مار مار کر آپ کا بھرکس نکال دے۔اب ایران آپ کا بُھرکس نکالے گا۔عظیم قائد آیت اللہ علی خامنہ ای زندگی میں صہیونی اور امریکی استحصالی قوتوں کیخلاف جرأت مندانہ اسٹینڈ لیکر دنیا کے تمام اصول پسندوں کی آنکھ کا تارا تو تھے ہی مگر شہید ہو کر انہوں نے نہ صرف ایرانی قوم کو متحد کر دیا ہے، بلکہ پوری دنیا کے باضمیر انسانوں کو ظالم حملہ آوروں کیخلاف صف آرا کر دیا ہے۔

تازہ ترین