برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاستدان اور سابق شیڈو وزیر خزانہ جان مارٹن مک ڈونل نے کہا ہے کہ برطانوی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ براہِ راست احتجاجی کارروائی کرنے والے افراد کو اب دہشت گردی سے متعلق سزاؤں کے خطرے کا سامنا ہے، جو ممکنہ طور پر انصاف کی سنگین ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔
جان مارٹن مک ڈونل نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں پورا معاملہ سمجھایا ہے۔ اُنہوں نے برطانوی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 12 جون کو وول وچ کراؤن کورٹ پہنچیں، جہاں سیکڑوں افراد جمع ہو کر جج سے مطالبہ کریں گے کہ دہشت گردی کے اس پہلو کو مقدمے سے خارج کیا جائے۔
فِلٹن مقدمے کے ملزمان فلسطین ایکشن کے کارکن ہیں، جو اگست 2024 میں برطانیہ میں واقع البیٹ سسٹمز کی ایک فیکٹری میں داخل ہو گئے۔ البیٹ سسٹم اسرائیلی دفاعی افواج کے لیے ہتھیار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ مظاہرین نے وہاں موجود ڈرونز کی ایک کھیپ کو تباہ کر دیا۔
یہ وہ قاتل ڈرونز ہیں جنہیں اسرائیلی افواج نے فلسطینی شہریوں کو، جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ملزمان کو 18 ماہ تک انتہائی خطرناک قیدیوں کے طور پر جیل میں رکھا گیا۔ بعد میں وہ سنگین ترین الزامات سے بری ہو گئے، لیکن برطانوی ریاست نے اُن کے خلاف عائد بعض دیگر الزامات پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔
متعدد قانونی ماہرین نے اس مقدمے کی شفافیت اور انصاف پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خصوصاً اس بات پر کہ وکلائے صفائی کو دوران مقدمہ ملزمان کے اقدامات کے پس منظر اور سیاق و سباق کی وضاحت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ انہیں "نسل کشی" کا لفظ استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔
مقدمے کے دوران صفِ اول کے ایک وکیل صفائی نے مداخلت کی کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ جیوری کو یہ مناسب قانونی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی کہ وہ اپنے ضمیر کی بنیاد پر ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کے حق کو کس طرح استعمال کر سکتی ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اُس ممتاز وکیل کو بھی قانونی کارروائی اور توہینِ عدالت کی دھمکی دی گئی، اب اُنہیں قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت کے باہر ایسے مظاہرین، جو جیوری کے حقوق کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے، موقع پر ہی گرفتار کر لیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب جج کے پاس اُنہیں دہشت گردی سے متعلق سزا سُنانے کا اختیار موجود ہے۔ یہ مقدمہ ایک آزمائش ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غزہ یا دنیا کے کسی بھی حصے میں نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے والے، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے یا ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کرنے والے افراد پر کسی ایک الزام کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
لیکن انہیں دہشت گردی کی بنیاد پر قید کیا جا سکتا ہے۔ یہ برطانیہ میں شہری حقوق کے استعمال کے حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ ہے اور اسی لیے یہ ہم سب کے لیے تشویش اور فکر کا باعث ہونا چاہیے۔