• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آیت اللّٰہ خامنہ ای پر حملہ، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی منصوبہ بندی منظر عام پر

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

ایرانی شہید رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای پر حملے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی منصوبہ بندی کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شہید رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای پر امریکی حملے سے 48 گھنٹے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور تہران کی قیادت کے خلاف ایکشن کے لیے فوری اقدام کی وکالت کی۔

نیتن یاہو نے تازہ انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ایک ایسے وقت میں نشانہ بنانے والے ممکنہ ڈیکاپٹیشن اسٹرائیک کی تجویز پیش کی، جب اسرائیلی وزیراعظم کو یقین تھا کہ ایرانی قیادت کمزور ہے۔

حملے سے قبل فیصلہ کن کال

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حملے سے 48 گھنٹے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کو کال کی اور جنگ شروع کرنے کے وجوہات پر بات کی۔

نیتن یاہو کے مطابق نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای اور اعلیٰ عہدیداروں کی ملاقات آگے بڑھا دی گئی ہے، جسے اسرایئلی وزیراعظم نے ایک نادر موقع کے طور پر دیکھا اور کہا کہ ممکن ہے کہ پھر کبھی خامنہ ای پر حملہ کرنے کا بہتر موقع نہ ملے۔ انہوں نے اس آپریشن کو اسٹریٹجک اور علامتی دونوں اعتبار سے پیش کیا۔

ٹرمپ نے آپریشن کی منظوری دی، لیکن وقت کا فیصلہ نہیں کیا

کال کے وقت ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی منظوری دی مگر ابھی یہ طے نہیں کیا تھا کہ امریکا کب یا کن حالات میں مداخلت کرے گا۔

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نیتن یاہو کی سفارش نے حتمی فیصلے کو شکل دی۔

منصوبہ بندی سے عمل درآمد تک

پہلا حملہ 28 فروری کو کیا گیا، جس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای مارے گئے۔

وائٹ ہاؤس نے اگرچہ کال کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی، لیکن کہا کہ آپریشن کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل اور پیداوار کی صلاحیت کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا تھا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

نیتن یاہو نے عوامی سطح پر یہ دعوے مسترد کیے کہ اسرائیل نے امریکا پر جنگ کے لیے دباؤ ڈالا بلکہ اسے فیک نیوز قرار دیا۔ بعدازاں ٹرمپ نے بھی اس بیانے کو اپنایا اور کہا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ بالآخر ان کا اپنا تھا۔

خبر ایجنسی کی رپورٹ یہ ظاہر نہیں کرتی کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ پر دباؤ ڈالا، بلکہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسرائیلی رہنما نے فیصلہ کن لمحے کو تاریخی موقع کے طور پر پیش کرتے ہوئے اثر انداز کیا۔

انہوں نے دلیل دی کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے سے خطے کی صورتحال بدل سکتی ہے اور تہران میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید