• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی میں اگر پاکستان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ مودی تنقید کی زد میں

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

بھارتی نیشنل کانگریس کی رکن سپریا شری ناتھ نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ بحران کے دوران پاکستان کو مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی دنیا بھر میں پذیرائی سے بھارت کو بڑا دھچکا لگ گیا۔

سپریا شری ناتھ نے کہا کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے مصر، ترکیہ اور پاکستان سمیت اسٹیک ہولڈرز جس میز پر بیٹھے ہیں، اس میں بھارت کی سیٹ کہاں ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ مودی اور ان کے ساتھیوں کے دور میں ہماری خارجہ پالیسی کی کھلی ناکامی نہیں ہے؟ 

بھارت کی ممتاز شخصیات مودی سرکار پر برس پڑیں اور کہا کہ جنگ بندی میں اگر پاکستان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ مودی سرکار آخر کر کیا رہی ہے؟ 

بھارتی کالمسٹ اویناش پالیوال نے کہا کہ بھارت شاید یہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل جنگ میں ایک فریق منتخب کر لیا ہے، لیکن اسے اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اس فریق نے ابھی تک بھارت کو منتخب نہیں کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید