ایران نے غیر دشمن جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
بحری آمد و رفت کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کی معطلی سے عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا تھا۔
گزشتہ روز اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحیت میں شامل نہ ہوں یا اس کی حمایت نہ کریں اور طے شدہ سیکیورٹی ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہوگی۔
اس سے قبل ایران اسی نوعیت کے مؤقف سے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کو بھی آگاہ کر چکا ہے، جو عالمی بحری سلامتی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ تاہم تہران نے یہ واضح نہیں کیا کہ جہازوں کو کن مخصوص ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران اس سے قبل ایسے کسی بھی مذاکرات کی تردید کرتا رہا ہے۔
اگرچہ اب بھی چند جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں، لیکن آمد و رفت معمول کے مقابلے میں نہایت کم ہو چکی ہے۔
میرین انٹیلی جنس کمپنی کے مطابق پیر کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنگ سے قبل یومیہ اوسطاً 120 جہاز گزرتے تھے۔
ابتدائی دنوں میں ایران نے خبردار کیا تھا کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ گزرگاہ دشمنوں کے علاوہ باقی سب کے لیے کھلی ہے۔