• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ: جنوبی ایشیائی خاندانوں پر موت اور قرضوں کا دباؤ بڑھ گیا

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

خلیجی خطے میں امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے لاکھوں جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن اور اِن کے خاندانوں کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔ 

عرب میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی بڑی تعداد بھارت، پاکستان، بنگلا دیش، نیپال اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ ان ممالک کی معیشتیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق بھارتی ریاست اڑیسہ کے گاؤں نائیکنی پلی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ مزدور کُنا دوحہ میں پائپ فٹر کے طور پر کام کرتے تھے، میزائل حملوں کی خوفناک آوازیں سننے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے، ان کے والد جیا کھنتیا کا کہنا ہے کہ بیٹے نے آخری فون کال میں کہا تھا کہ وہ محفوظ ہے مگر اگلے ہی دن اس کی موت کی خبر آ گئی۔

کُنا اپنی بہنوں کی شادی کے لیے دوحہ گیا تھا اور 300000 روپے کے قرض کی ادائیگی میں خاندان کی مدد کر رہے تھا، ہر ماہ تقریباً 15000 روپے گھر بھیجتا تھا، والد کے مطابق بیٹے کی موت نے خاندان کی امیدیں ختم کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 8 افراد میں سے 5 جنوبی ایشیاء سے تھے جن میں پاکستان، بنگلا دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔

اس جنگ میں عمان میں ہلاک ہونے والے تمام 3 افراد بھارتی شہری تھے جبکہ سعودی عرب میں بھی 1 بھارتی اور 1 بنگلا دیشی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تقریباً 21 ملین جنوبی ایشیائی مزدور کام کرتے ہیں جو خطے کی مجموعی آبادی کا بڑا حصہ ہیں، ان میں زیادہ تر تعمیرات، تیل کی تنصیبات، بندرگاہوں اور ایئر پورٹس پر کام کرتے ہیں اور یہی مقامات حالیہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے ایک پاکستانی مزدور حمزہ نے بتایا کہ ڈرون حملہ ان کے قریب تیل کے ذخیرے پر ہوا تھا، ان کے مطابق مزدور کئی راتیں خوف کے باعث سو نہ سکے اور اِنہیں ہر لمحے جان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تاہم معاشی مجبوریوں کے باعث وہ ملازمت چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ خاندانوں کا انحصار ان کی آمدنی پر ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی ایشیائی مزدور غربت اور روزگار کی کمی کے باعث خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں جبکہ مغربی ممالک میں غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے ویزا قوانین سخت ہو چکے ہیں۔ 

نئی دہلی انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے ماہر عمران خان کا کہنا ہے کہ جنگ یا قدرتی آفات میں سب سے زیادہ متاثر یہی مزدور ہوتے ہیں مگر وہ نوکری چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک جنوبی ایشیاء کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، بھارت کو تقریباً 50 ارب ڈالرز، پاکستان کو 38.3 ارب ڈالرز، بنگلا دیش کو 13.5 ارب ڈالرز، سری لنکا کو 8 ارب ڈالرز اور نیپال کو 5 ارب ڈالرز سالانہ موصول ہوتے ہیں، اگر جنگ طویل ہوئی تو یہ رقوم کم ہو سکتی ہیں جس سے خطے کی معیشتیں متاثر ہوں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے بنگلا دیشی مزدور نور نے خوف کے باعث وطن واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اِن کا کہنا ہے کہ مسلسل ڈرون حملوں کے بعد خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا جبکہ میرے بچے بھی روزانہ فون پر میری سلامتی کے لیے روتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید