ایک وقت تھا جب پاکستان دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا اور یہاں بہترین معیار کی کپاس پیدا ہونے سے بھارت اور بنگلہ دیش سمیت کئی ملکوں کو یہاں سے خام کپاس بڑی مقدار میں برآمد ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی ضروریات کیلئے خوردنی تیل بہت ہی کم مقدار میں درآمد کرتا تھالیکن پچھلے تقریباً پندرہ سال سے پاکستان میں شوگر لابی نے اپنے پنجے اس قدر مضبوطی سے گاڑے کہ آج پاکستان بھر میں کپاس کی بجائے ہر طرف گنا ہی گنا نظر آ رہا ہے اور گنا دوست حکومتی پالیسیوں کے باعث ٹیکسٹائل و کاٹن جننگ انڈسٹری مسلسل زوال پذیر ہے اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز اور 500سے زائد کاٹن جننگ فیکٹریاں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں جبکہ جزوی طور پر غیر فعال ہونے والی ٹیکسٹائل ملز و جننگ فیکٹریاں اسکے علاوہ ہیں جسکی بڑی وجہ پورے کاٹن سیکٹر پر توانائی اور ٹیکسز کی شرحیں اور نرخ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کی کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پندرہ ملن بیلز سے کم ہو کر صرف5ملین بیلز تک محدود ہو گئی ہے اور ٹیکسٹائل ملز مالکان کو اپنے برآمدی آرڈرز پورے کرنے کیلئےبیرون ملک سے بڑی مقدار میں روئی درآمد کرنا پڑ رہی ہے ۔ قیام پاکستان سے لے کر تقریباً پندرہ سال قبل تک پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے ضلع رحیم یار خان میں گنے کی کاشت میں غیر معمولی اضافے کے باعث یہاں کپاس کی پیداوار اور معیار میں ریکارڈ کمی کے باوجود یہاں ایک اور شوگر ملز لگانے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایک وقت میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار سندھ کے مقابلے میں زائد ہونے کے باوجود پنجاب میں گنے کی ریکارڈ پیداوار کے باعث پچھلے دو سال سے سندھ میں کپاس کی پیداوار حیران کن طور پر پنجاب سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اس لئے گرتی ہوئی پاکستانی معیشت کو فوری سہارا دینے کیلئے پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عملدرآمد کرنا ہو گا تاکہ کپاس کی کاشت بہتر ہونے سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدکم ہو نے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو سکیں۔ تقریباً پندرہ سال قبل تک ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہونے والی کپاس نہ صرف پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہو تی تھی بلکہ قدرتی طور پر یہاں پڑنے والی سورج کی منفرد کرنوںکی وجہ سے اپنے بہترین معیار کے باعث دنیا بھر اور خاص طور پر یورپی ممالک میں ”خان کاٹن“ کے نام سے مشہور تھی۔جبکہ ا ن دنوں یورپی یونین کے کئی وفود اس منفرد کپاس کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کیلئے رحیم یار خان کے دورے بھی کرتے تھے اور یہاں کئی زرعی فارمز اور جننگ فیکٹریوں میںجا کر مشاہدہ کرتے تھے۔ آپ سب کے علم میں ہو گا کہ2011-12ء تک ضلع رحیم یار خان پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والا ضلع تھا اور یہ ضلع کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کی گیارہ سے تیرہ فیصد تک کپاس پیدا کرتا تھا اور2011-12ء میں جب پاکستان میں کپاس کی پیداوار ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ایک کروڑ48لاکھ بیلز پیدا ہوئی تھی اس سال ضلع رحیم یار خان میں پندرہ لاکھ ا ٹھارہ ہزار بیلز جبکہ 2004-05ء میں جب پاکستان میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ43لاکھ بیلز پیدا ہوئی تھی اس سال ضلع رحیم یار خان میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ اٹھارہ لاکھ چالیس ہزار بیلز پیدا ہوئی تھیں، لیکن پھر یہاں سیاسی بنیادوں پر نئی شوگر ملز کے قیام اور پہلے سے قائم شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت میں ریکارڈ اضافے کے باعث یہاں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2012-13ء میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کپاس کی پیداوار جو قبل ازیں ضلع رحیم یار خان کے مقابلے میں پچاس فیصد کے لگ بھگ کپاس پیدا کرتا تھا،وہاں کپاس کی پیداوار رحیم یار خان کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ضلع رحیم یار خان میں اس وقت چھ شوگر ملز قائم ہیں لیکن انکی پیداواری صلاحیت آٹھ شوگر ملز کے برابر ہے جو کہ تقریباً 150میٹرک ٹن روزانہ ہے جبکہ جب بعض وجوہات کی بنا پر ضلع رحیم یار خان کی حدود میں بعض سیاسی خاندانوں کو نئی شوگر ملز کے قیام کی اجازت نہ ملی تو پھر انہوں نے سندھ پنجاب بارڈر سےملحقہ ایریاز میں دو نئی شوگر ملز قائم کیںاس کے علاوہ سندھ کے دو بڑے سیاسی خاندانوں نے بھی سندھ پنجاب بارڈ پر دو نئی شوگر ملز قائم کیں جس سے ضلع رحیم یار خان میں کپاس جو پہلے آٹھ لاکھ ایکڑ تک کاشت ہوتی تھی وہ اب کم ہو کر تین لاکھ ایکڑ سے بھی کم ہو گئی ہے اور اس میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق رحیم یار خان میں ظاہر پیر کے مقام پر اب ایک نئی شوگر مل قائم ہونے کی جاری ہیں جبکہ سندھ پنجاب بارڈر پر بھی ایک نئی شوگر مل کے قیام کی اطلاعات ہیں جسکے باعث ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت میں مزید کمی واقع ہو گی۔ریکارڈ کے مطابق2011-12ء میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ اکیس لاکھ بیلز تھی جبکہ سندھ میں یہ پیداوار صرف چھبیس لاکھ82ہزار بیلز تھی لیکن پنجاب میں گنے کی کاشت میں ریکارڈ اضافے کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی بار 2024-25ء میں سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب سے بڑھ گئی ۔وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل ہے کہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں کپاس زیادہ پیدا ہونے سے ملکی معیشت بہتر ہو سکے جبکہ اسکے علاوہ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ پاکستان میں خیرات کی بجائے کاروبار بڑھانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائے اور فوری طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی) و دیگر خیراتی پیکیجز کیلئے مختص600ارب روپے سے زائد فنڈز صنعتوں کی بحالی پر خرچ کئے جائیں جس سے کم از کم غیر فعال ہونے ہونے والی ٹیکسٹائل ملز اور جننگ فیکٹریاں فوری طور پر فعال ہو سکیں ۔