آئر لینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں دوسری رات بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی جس میں 12 پولیس افسران زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلفاسٹ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں، بوتلیں اور لکڑی کے ٹکڑے پھینکے۔
پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں 16 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ڈپٹی فرسٹ منسٹر ناردرن آئر لینڈ ایما لٹل پینگلی کا کہنا ہے کہ پُرتشدد مناظر نے ہر ایک کو خوفزدہ کر دیا ہے اور ہنگامہ کرنے والے اپنی برادری اور اپنے مقصد کو تباہ کر رہے ہیں۔
سیکریٹری فار ناردرن آئر لینڈ نے کہا ہے کہ ناردرن آئر لینڈ کی نسلی اقلیتوں میں خوف کا احساس پھیل رہا ہے۔
قبل ازیں پیر کی شب چاقو زنی کی واردات کے بعد بیلفاسٹ میں ہنگاموں کا آغاز ہوا تھا، حملے میں ملوث سوڈانی شہری ہادی الودید کو کل عدالت نے 4 ہفتوں کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
ٹریڈ یونین یونیسن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک غیر سفید فام نرس کا 4 نقاب پوش افراد نے پیچھا کیا اور شعبۂ صحت میں کام کے لیے باہر سے آئے افراد کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔