• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا ایران جنگ سے نکلنے، اسرائیل کا فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی معاہدے کے بغیر بھی 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے علیحدگی اختیار کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے ہی متعدد رپورٹس میں یہ عندیہ دیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے قائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران میں جاری جنگ کے مستقبل کے حوالے سے حکمتِ عملی میں واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک جانب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا 2 سے 3 ہفتوں کے اندر ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر سکتا ہے، چاہے تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، تو دوسری جانب نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے ایرانی حکومت کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ہمیں کارروائی کرنا تھی اور ہم نے کی، ہم اپنے مشن پر قائم رہے اور ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جاری جنگ کے باوجود اسرائیل ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو ایران پر حملے کر کے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ شہید ہو گئے اور خطے میں جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تاہم جنگ کے آغاز سے ہی متعدد رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے قائل کیا تھا، گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جےڈی ونس نے بھی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں نیتن یاہو پر تنقید کی۔

رپورٹس کے مطابق نائب صدر کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے نیتن یاہو نے صدر کو یہ باور کرایا کہ یہ اقدام آسان ہو گا اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات حقیقت سے کہیں زیادہ ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید