بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ بحران میں اب تک 12ملین بیرل یومیہ سے زائد آئل سپلائی ضائع ہوچکی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فتحی بیرول نے اپنے بیان میں کہا کہ تیل کا حالیہ بحران 1973 اور 2022 میں پیش آنیوالے آئل بحرانو ں سے بدتر ہے۔
انھوں نے کہا کہ اپریل میں تیل کا نقصان مارچ کے مقابلے میں دگنا ہونے کا خدشہ ہے، انکا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ جیٹ فیول اور ڈیزل کی کمی ہے۔
فتحی بیرول کے مطابق جیٹ فیول اور ڈیزل کی کمی پہلے ہی ایشیا کو متاثر کیے ہوئے ہے، جیٹ فیول اور ڈیزل کی کمی اپریل مئی میں یورپ کو بھی متاثر کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ مزید اسٹریٹیجک ریزرو جاری کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں، اگر خام تیل یا مصنوعات کی ضرورت سمجھی تو ہم مداخلت کرسکتے ہیں۔
آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40 اہم توانائی کے اثاثوں کو نقصان پہنچا ہے۔