• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم از کم اجرت میں اضافہ، 27 لاکھ افراد کی تنخواہیں بڑھ گئیں

برطانیہ میں تقریباً 27 لاکھ افراد کو اس ہفتے تنخواہوں میں اضافہ ملے گا کیونکہ کم از کم قومی اجرت میں 50 پنس اضافہ کر کے اسے 21 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے۔

18 سے 20 سال کے کارکنوں کی اجرت میں 85 پنس اضافہ کر کے اسے 10.85 پاؤنڈ کر دیا گیا ہے جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد اور اپرنٹسز کی اجرت میں 45 پنس اضافہ کر کے 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔

اس اضافے کو مہم چلانے والوں نے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث انہیں قیمتیں بڑھانا یا عملہ کم کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کو اجرتوں کے بارے میں سفارشات دینے والے لو پے کمیشن کا کہنا ہے کہ ماضی میں کم از کم اجرت میں اضافے سے ملازمتوں پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑا۔

وزیراعظم کیئر سٹامر نے کہا کہ کم آمدنی والے افراد کی تنخواہوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم حکومت کو اخراجات کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

ساؤتھمپٹن میں کافی شاپس کی چین کے منیجنگ ڈائریکٹر اسپینسر باؤمین کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین کو زیادہ تنخواہ دینے پر خوش ہوتے، لیکن اخراجات میں اضافہ قابل برداشت ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا کاروبار مختلف دباؤ کا شکار ہے، جن میں کم از کم اجرت، بزنس ریٹس، نیشنل انشورنس اور بیمار رخصت کے اخراجات شامل ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے بل بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کم سے کم عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور مزید کمی ممکن نہیں، اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کاروبار بند کرنے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید