مسئلہ فلسطین کو لے کر یورپین دارالحکومت برسلز میں گلوبل الائنس برائے دو ریاستی حل پر عملدرآمد کا اجلاس منعقد ہوا۔
یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس اور بیلجیئم کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں فلسطین کے وزیرِ اعظم خصوصی طور پر شریک ہوئے جب کہ سعودی وزیرِ خارجہ سعود الفیصل اور ناروے کے وزیرِ خارجہ سمیت 60 کے قریب ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان نے اس اجلاس میں شرکت کی۔
اس موقع پر افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے یورپین خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ برسلز میں عالمی اتحاد کے اس اجلاس کے اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی قانون پر مبنی دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو تقویت دینا ہے، جس کے لیے نیویارک اعلامیہ ایک رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرنے کے ساتھ دو ریاستی حل پر تعاون کو گہرا کرنے پر بات چیت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
اُنہوں نے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور احتساب کے احترام کو یقینی بنانے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل ہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے سلامتی، وقار اور امن کے ساتھ رہنے کا واحد راستہ ہے۔
کایا کالس نے اسرائیل کی جانب سے نئی بستیوں کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے اسے دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل ایسا کرنے سے باز رہے۔
دوسری جانب ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپین بارتھ ایڈی کے مطابق فلسطین کو اب ہماری توجہ کی ضرورت ہے، صورتحال بدستور نازک ہے، 90 سے زیادہ ممالک اور تنظیمیں اسی مقصد کے ساتھ دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد میں جمع ہیں، اس کا مقصد زمینی صورت حال کو اب بہتر بنانا اور فلسطینی ریاست کے لیے ایک راستہ بنانا شامل ہے۔
کچھ یورپین اور امریکی ذرائع ابلاغ اس اجلاس کے برسلز میں انعقاد کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کے لیے بنائے گئے بورڈ آف پیس کا متبادل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس میں اس تنازع کے اصل فریق یعنی فلسطینیوں کو ہی شامل نہیں کیا گیا اور ان کے فنڈز بھی روک دیے گئے تھے جب کہ آج کے اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِ اعظم اس اجلاس کا اہم حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ یورپین یونین اور سعودی عرب کے تعاون سے اس تنظیم کا قیام 2024ء میں نیویارک میں عمل میں آیا تھا، جس کے پہلے اجلاس میں 90 ممالک شریک ہوئے تھے۔