مکہ مکرمہ میں جدید انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور میٹرو سسٹم کی تعمیر کے منصوبوں پر عملی پیش رفت جاری ہے جس کا مقصد لاکھوں زائرین اور سعودی شہریوں کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے۔
رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ دی ہولی سائٹس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر صالح الراشد نے ہارورڈ بزنس ریویو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا ہے کہ مکہ ایئر پورٹ کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے کے لیے اسٹریٹجک اور معاشی سرمایہ کاری کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری ماڈلز تیار کیے جائیں گے، اس منصوبے سے قریبی شہروں کے ایئر پورٹس کی معاشی حیثیت متاثر نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ مکہ میٹرو کے فزیبلٹی اسٹڈیز اور ابتدائی ڈیزائن بھی مکمل ہو چکے ہیں۔
’سعودی گزیٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مکہ میں رہائشی سہولتیں، انفرااسٹرکچر اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے بڑے منصوبے جاری ہیں جن کا ہدف شہریوں اور زائرین کے اطمینان کی شرح کو 90.5 فیصد تک پہنچانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسمارٹ مکہ پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسجد الحرام اور اطراف میں ہجوم کی نگرانی کی جا رہی ہے، جمرات پل اور مرکزی علاقوں میں رش کی پیشگی پیش گوئی کے نظام کے ساتھ فضائی امیجنگ کو بلدِی ایپلی کیشن سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ حجاج کے سفر کو آسان بنایا جا سکے۔
ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری کے لیے بسیں، ٹیکسی اور گائیڈڈ ٹرانسپورٹ سروسز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، ’مکہ ٹیکسی‘ سروس جدید گاڑیوں، ٹریکنگ سسٹم، الیکٹرانک ادائیگی اور الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کے ساتھ متعارف کروائی جا چکی ہے۔
مکہ بس نیٹ ورک اس وقت 400 بسوں کے ذریعے 12 روٹس پر خدمات انجام دے رہا ہے جو 430 اسٹاپس اور مرکزی علاقے کے 4 بڑے اسٹیشنز کو کور کرتا ہے۔
فروری 2022ء سے اب تک مسافروں کی تعداد 185 ملین سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 3.8 ملین سے زائد ٹرپس مکمل کیے گئے ہیں۔
سعودی گزٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکہ کا انفرااسٹرکچر منصوبوں کے تحت پہلے، دوسرے اور تیسرے رنگ روڈ کے بڑے حصے مکمل کر کے مسجد الحرام اور مقدس مقامات سے منسلک کر دیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی راستوں کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
حج سہولتوں میں بہتری کے لیے مسجد الحرام کے اطراف 60 مینٹیننس عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور 32 برقی ایسکیلیٹرز نصب کیے گئے ہیں۔
عرفات میں 190,000 مربع میٹر پر مشتمل 8 مقامات کی اپ گریڈیشن، 33,000 مربع میٹر پر دو منزلہ خیمے، 27,000 حجاج کی گنجائش کے حامل 10 رہائشی ٹاورز اور منیٰ میں 200 بستروں پر مشتمل ایمرجنسی اسپتال بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی منصوبوں کے تحت 20,000 درخت لگائے جا رہے ہیں، پانی کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور 285,000 مربع میٹر سے زائد سایہ دار اور ٹھنڈے پیدل راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق ویسٹ مینجمنٹ اور پانی و سیوریج نیٹ ورک میں بہتری سے 310 ملین سعودی ریال سے زائد کی بچت حاصل ہوئی ہے۔
مزید منصوبوں میں ویسٹ جمرات اسٹیشن کا قیام شامل ہے جس سے طواف الافاضہ 20 منٹ میں مکمل کیا جا سکے گا اور فی گھنٹہ 20,000 مسافروں کو سہولت ملے گی۔
اس کے علاوہ 6 نئی عوامی مارکیٹس قائم اور 3 موجودہ مارکیٹس کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ مرکزی علاقوں میں پیدل چلنے کی جگہ 127 فیصد بڑھائی گئی ہے اور 30,000 مربع میٹر سے زائد نئے سایہ دار مقامات شامل کر کے رش کم کرنے اور زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔