بھارتی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں جن کے تحت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے جنگ بندی پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر ممکنہ جنگ بندی سے متعلق گفتگو کی ہے۔
اس فون کال کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ ایران کے صدر جنگ بندی چاہتے ہیں تاہم یہ اسی وقت ممکن ہو گی جب آبنائے ہرمز کو ’مکمل طور پر کھلا اور محفوظ‘ بنایا جائے۔
اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر ہمیں یقین ہو گیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہا تو وہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں، چاہے باضابطہ جنگ بندی نہ بھی ہو۔
ادھر چین اور پاکستان کی جانب سے بھی ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران سے متعلق ثالثی کردار ادا کرنے والے فریقوں سے رابطے کیے ہیں۔
اُنہوں نے پیغام دیا ہے کہ امریکا جَلد معاہدہ چاہتا ہے، بصورتِ دیگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات میں پیش رفت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی سطح ’صفر‘ ہے۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ ایران دھمکیوں یا ڈیڈ لائنز کے تحت بات چیت نہیں کرے گا اور اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔