سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وفاقی محتسب نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی خاتون کو محض ’گڈ مارننگ‘ کا پیغام بھیجنے پر بھی مرد کو بھاری جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی محتسب نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جرمانے صرف ہراسانی کے معاملات میں لاگو ہوتے ہیں۔
مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور انسٹاگرام پر شیئر کی جانے والی ایک گرافک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی محتسب نے اعلان کیا ہے کہ کسی خاتون کو ’گڈ مارننگ‘ کا پیغام بھیجنے پر بھی سزا دی جائے گی۔
یہ دعویٰ درست نہیں اور گمراہ کن ہے۔
اسلام آباد میں ہراسگی کے خلاف تحفظ کے لیے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (قانونی) وقار احمد نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ اس نوعیت کا کوئی قانون یا حکم جاری نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاتون کو مسلسل پیغامات بھیجے جائیں تو یہ عمل ہراسانی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
اسی مؤقف کی تائید وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے لاء آفیسر محسن شیخ نے بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہراسانی کے ہر الزام کا جائزہ باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت کیس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
محسن شیخ نے کہا کہ ’گڈ مارننگ‘ جیسا ایک پیغام، اگر اکیلا ہو، تو عام طور پر غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے اور اسے ہراسانی نہیں کہا جاتا، تاہم اگر ایسے پیغامات بار بار بھیجے جائیں، نامناسب حالات میں بھیجے جائیں، یا ناپسندیدہ رویے کا حصہ ہوں تو انہیں قانونی دائرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی کمیونیکیشن آفیسر یمنیٰ جمیل نے بھی جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ محض ’گڈ مارننگ‘ کا پیغام بھیجنا کوئی جرم نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی خاتون یا لڑکی کو صرف ’گڈ مارننگ‘ کہنا قانون کے تحت قابلِ سزا عمل نہیں ہے، تاہم اگر ایسے پیغامات بار بار یا خاتون کی مرضی کے خلاف بھیجے جائیں اور وہ باقاعدہ شکایت درج کروائے تو پھر کارروائی ہو سکتی ہے۔
سرکاری وضاحت کے مطابق سادہ نوعیت کے پیغامات قابلِ سزا نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی جرمانہ عائد ہوتا ہے، سزا صرف اُس صورتوں میں دی جاتی ہے جب مسلسل یا ناپسندیدہ رابطہ ہراسانی کے زمرے میں آ جائے۔