• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی قیادت کے امریکی رسائی کیلئے بذریعہ کاروباری شخصیت انیل امبانی ایپسٹین سے رابطوں کا انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے 2017ء میں بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ساتھ رابطوں کے دوران خود کو ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس تک رسائی رکھنے والا فرد ظاہر کیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات کے مطابق بھارتی معروف کاروباری شخصیت مکیش امبانی کے بھائی انیل امبانی نے ایپسٹین سے بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات اور واشنگٹن ڈی سی میں حکام سے رابطوں کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی۔

مارچ 2017ء کی ایک گفتگو میں انیل امبانی نے پوچھا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جا رہا ہے؟ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں معلوم کرے گا اور بعد میں بتایا کہ یہ معاملہ زیرِ غور نہیں، بعد ازاں یہ عہدہ نومبر 2017ء میں کینتھ جسٹر کو سونپا گیا۔

جولائی 2017ء میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر میک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بنیں گے، جو بعد میں درست ثابت ہوا۔

رپورٹس کے مطابق ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملوانے کی پیشکش بھی کی۔

پیغامات میں امبانی نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ بھارتی قیادت، بشمول مودی کی حکومت نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن کے ساتھ ملاقاتوں کے انتظام میں مدد طلب کی۔

ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط مضبوط کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وزیرِ اعظم نریندر مودی کا دورۂ اسرائیل اور دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالرز کے دفاعی معاہدے زیرِ بحث تھے۔

رپورٹس کے مطابق امبانی 2019ء میں بھی ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں رہے جب ان کے کاروبار کو مالی مشکلات کا سامنا تھا، اسی سال 23 مئی کو دونوں کی نیویارک میں ملاقات بھی ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کے دن تھی۔

کچھ پیغامات میں ڈیزرٹ اور فن جیسے الفاظ کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم ان کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید