ایران نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جنوب مغربی ایران میں امریکی فضائیہ کے اہلکار کو بچانے کے لیے کیا گیا امریکی فوجی آپریشن دراصل ایک دھوکا بھی ہو سکتا ہے جس کا مقصد افزودہ یورینیئم حاصل کرنا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی کارروائی ریسکیو مشن نہیں بلکہ ’یورینیئم چوری‘ کرنے کی کوشش تھی۔
ان کے مطابق جس مقام پر امریکی پائلٹ کی موجودگی بتائی گئی اور جہاں سے امریکی فورسز نے پائلٹ کو ریسکیو کیا، دونوں علاقوں میں واضح فاصلہ موجود ہے، امریکی ریسکیو آپریشن کے بارے میں بہت سے سوالات اور غیر یقینی صورتِ حال ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 400 سے 450 کلوگرام افزودہ یورینیئم موجود ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 400 کلو گرام سے زائد یورینیئم اور تقریباً 200 کلو گرام 20 فیصد افزودہ مواد موجود تھا جسے نسبتاً آسانی سے 90 فیصد ویپن گریڈ سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کے مطابق ایران کا زیادہ تر جوہری مواد اصفہان اور نطنز کے مراکز میں محفوظ ہے جن میں سے بعض تنصیبات امریکی حملوں کا نشانہ بھی بن چکی ہیں۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیئم حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہے تھے اور مذاکرات کے بدلے ایران سے یہ مواد حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
3 اپریل کو ایک ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیارہ جنوب مغربی ایران میں مار گرایا گیا، طیارے کا پائلٹ فوری طور پر بازیاب ہو گیا جبکہ ویپن سسٹمز آفیسر کی تلاش 2 دن تک جاری رہی۔
امریکی فوج نے اصفہان صوبے کے جنوب میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جس پر تقریباً 500 ملین ڈالرز خرچ ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق کارروائی میں اے 10 تھنڈر بولٹ ٹو طیارے، ایم سی 130 جے کمانڈو ٹو، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ایم کیو 9 ریپر ڈرونز، سی 130 ہرکیولیس طیارے اور ایچ 60 ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے۔
امریکی خصوصی دستے رات کی تاریکی میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور شدید فضائی حملوں اور کور فائر کے ذریعے زخمی اہلکار کو نکال لیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق زخمی اہلکار کی حالت بہتر ہے اور وہ محفوظ ہے۔
ایران نے اس آپریشن کو امریکا کے لیے ’تباہ کن ناکامی‘ قرار دیا ہے جبکہ واشنگٹن اسے اپنی تاریخ کے کامیاب ترین ریسکیو مشنز میں شمار کر رہا ہے۔