• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی پی ایل کو ہر سال 2400 کروڑ روپے کا نقصان؟ للت مودی کا بی سی سی آئی پر بڑا الزام

آئی پی ایل سے ہر سال 2400 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے—للت مودی کا دعویٰ
 آئی پی ایل سے ہر سال 2400 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے—للت مودی کا دعویٰ

سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی نے بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لیگ اصل ’ہوم اینڈ اوے فارمیٹ‘ (home-and-away) پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تقریباً 2400 کروڑ روپے اضافی آمدنی سے محروم ہو رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں للت مودی نے کہا ہے کہ آئی پی ایل کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ ہر ٹیم دوسری ٹیم کے خلاف 2 میچ کھیلے گی یعنی ایک اپنے ہوم گراؤنڈ پر اور ایک حریف کے میدان میں تاہم 10 ٹیموں تک توسیع کے باوجود لیگ میں صرف 74 میچز کھیلے جا رہے ہیں جبکہ مکمل ہوم اینڈ اوے فارمیٹ کے تحت لیگ مرحلے میں 90 میچز اور مجموعی طور پر 94 میچز ہونے چاہئیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہر میچ کی آمدنی کا 50 فیصد بی سی سی آئی کو اور باقی 50 فیصد فرنچائز ٹیموں کو ملتا ہے، اس لیے کم میچز ہونے سے ٹیمیں براہِ راست مالی نقصان اٹھا رہی ہیں، فرنچائزز کو ہوم اینڈ اوے میچز دینا ایک معاہدے پر مبنی ذمے داری ہے۔

للت مودی کا کہنا ہے کہ اگر مکمل فارمیٹ نافذ کیا جائے تو صرف میڈیا رائٹس سے ہی تقریباً 2400 کروڑ روپے اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے، جس میں سے 1200 کروڑ روپے 10 ٹیموں میں تقسیم ہوتے اور ہر ٹیم کو تقریباً 120 کروڑ روپے مزید ملتے۔

اُنہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ میچز کی تعداد کم رکھنے سے ناصرف ٹیموں کی کمائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ لیگ اور فرنچائزز کی مجموعی ویلیو بھی کم ہو رہی ہے۔ 

للت مودی کا کہنا ہے  کہ اگر کیلنڈر میں جگہ نہیں تو ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ وہ ماڈل نہیں جسے اصل میں فروخت کیا گیا تھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید