• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوشی کے اس موقعے پر ایران کے جذبے کو سراہنے اور پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد موجود تڑپتے پھڑکتے اپریلی شعور یافتگان کے جذبات کا بھی خیال رکھیے۔ بچاروں پر کچھ سال سے بہت برا وقت چل رہا ہے اور چلنا بھی چاہئے۔ کیوں چلنا چاہئے، آئندہ نگارشات میں اسی کے عقلی و واقعاتی دلائل دیے ہیں۔

اس گروہ کی مشکلات کا آغاز خان صاحب کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بے بنیاد دشمنی پالنے سے ہوا ۔ اگر عاصم منیر کو آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے اچانک ہٹانے کی وجوہات سنجیدہ نوعیت کی تھیں، تو انہیں اسی موقع پر جلدی ریٹائرڈ کردینا چاہئے تھا۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ جب حکومت انہیں ریٹائرمنٹ سے محض ایک ہفتہ قبل، ان کی ریٹائرمنٹ منسوخ کرتے ہوئے اعلان کردے کہ ہم آپ کو ریٹائر نہیں کررہے، بلکہ آپ اگلے آرمی چیف ہونگے؛ اس وقت خان صاحب بیان دیںکہ عاصم منیر سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں، اگر وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں تو ہم انکے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں اور انہیں معزول نہیں کریں گے۔ آپ کے خیال میں کسی ایسے سیاستدان کو عقل مند کہا جاسکتا ہے جو اس آرمی چیف کو معزول نہ کرنے کی آفر کررہا ہو، جس نے اپنے دور حکومت میں اسے چیف بننے سے روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہو؟کیا آپ عوام کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت کو بھی احمق سمجھتے ہیں؟ واضح رہے کہ نو مئی کو پاکستان کے متعدد شہروں میں سیکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لوگ نکلے تھے۔ ہر شہر میں ان کا نشانہ عسکری تنصیبات تھیں، حتیٰ کہ جنرل ہیڈکوارٹرز کے دروازے پہ بھی حملہ کیا گیا ۔ کیا یہ لوگبھول گئے تھےکہ اب ٹیکنالوجی کی مدد سے ہنگامے ٹلنے کے بعد بھی سب مظاہرین کو پکڑا جاسکتا ہے۔خان نےاس موقع کا بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور کہا یہ فالس فلیگ آپریشن تھا ،بیانیہ پھیلایا کہ اگر واقعی عسکری تنصیبات پر حملہ ہوا تو گولی کیوں نہیں چلائی؟ اگر معافی تلافی کی کوئی گنجائش موجود تھی بھی تو وہ اس بیانیے کے بعد دم توڑ گئی۔ نو مئی کے بعد اور چوبیس کے الیکشن تک اس جماعت کو پھر کئی موقعے ملے کہ اپنی سیاست کو بچالے۔خان اور اسکے چند لوگوں نے کوششیں بھی کیں، لیکن نامعلوم قوتوں کی جانب سے ہمیشہ ان کوششوں کو ناکام بنایا جاتا رہا۔ یہ وہی گروہ ہیں، جو اپنی پارٹی کے موجودہ چیئرمین کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے مصالحت کی بات کی تو تمام یوٹیوبرز نے متحد ہوکر گولہ باری شروع کردی۔ فی الوقت اس گروہ کو ہم پر یا خان مخالفین پر اتنا غصہ نہیں ہے، جتنا اپنی پارٹی کے ان لوگوں پر ہے جو مصالحتی رویہ اپنا کر خان کی رہائی کو اولین ترجیح دینے کی بات کرتے ہیں۔ ان افرادکی ملک دشمنی اب ہر اس شخص نے دیکھ لی ہے جو سوشل میڈیا چلاتا ہے۔ کیا ہم کو یہ یاد نہیں کہ آپریشن سندور کے وقت یہ کس ملک کی حمایت کررہے تھے؟چار روزہ جنگ میں پاکستان کی مخالفت اور بھارتی غیر قانونی جارحیت کی حمایت کرنے؛ پاکستان اور افغانستان امن تنازعے میں افغان موقف کی حمایت کرنے اور پاکستانی فوجیوں کے آئے روز حملوں میں مارے جانے پر خوشیاں منانے؛ صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے پر ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑنے سے لیکر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے یاری دیکھ کر جلنے کڑھنے؛ حالیہ جنگ میں پاکستانی فوج پر امریکہ کے ہاتھوں بکے ہونے اور ایران کی کمر میں چھرا گھونپنے کا الزام لگانے؛ ایران کی طرف سے پورا مہینہ پاکستان کی مسلسل تعریف اور تشکر کے بعد جل بھن کر عرب امارات اور سعودی عرب کی حمایت میں غول کے غول بنانے؛ اور اب آخر میں وزیراعظم کی ٹویٹ کو ہوبہو امریکا سے موصول شدہ قرار دینے اور یہ پراپیگنڈا کرنے کہ ایران، اس کو نہیں مان رہا،اور ایران کی طرف سے بھی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرنے کے بعد یہ کسی نئے بیانیے کی تلاش میں لور لور پھر رہے ہیں۔ اب یہ گروہ کبھی وزیراعظم کے ٹویٹس سے غلطیاں نکالتا اورکبھی فیلڈ مارشل بارے بَکتارہیگا ۔یہ جو"با شعور" نسل پچھلے پندرہ سال میں تیار ہوئی ہے، خاص طور پر وہ طبقہ جسے اپریل بائیس ء میں پی ایم ہاوس میں ایک سابق وزیر اعظم کو پڑنے والے جھانپڑوں کے بعد اچانک شعور ملا ہے، ان میں سے کسی کے ٹھیک ہونے کا امکان کم ہی ہے۔ اس شعور کا مزہ انہیں مرتے دم تک لیتے رہنے دینا چاہئے۔ وزیراعظم پاکستان اور ان کی ٹیم کا جتنا زیادہ یہ مذاق بنائیں، اتنا ہی ہمیں تبدر سے کام لینا چاہئے؛ ان کا مذاق تاریخ کے کسی ریکارڈ میں محفوظ نہیں ہوگا، جبکہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا ہر موقف، ہر پالیسی اور ہر بیان تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن رہا ہے اور بنتا رہے گا، اور آنے والے لوگ خود تاریخ پڑھ کر صحیح یا غلط کا فیصلہ کرلیں گے۔ فیلڈ مارشل کی غیر معمولی بصیرت اور بالخصوص قابلیت کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی، وہ ایک انتہائی پروفیشنل فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین پالیسی ساز بھی ثابت ہوئے ہیں، جو کہ ان کی ذمہ داری نہیں بلکہ انہیں یہ کام کرنا پڑرہا ہے، لیکن وہ خان صاحب اور ان کی شعور دی ہوئی نسل سے ریاست اور قوم کو بچانے، مذہبی جتھوں کو لگام دینے، بیرونی خطرات سے دفاع کرنے اور عالمی سطح پر ٹھیک سمت میں کھڑنے ہونے تک، اپنے سبھی فیصلوں میں صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ موجودہ ہائبرڈ سسٹم اسی طرح کامیابی سے چلتا رہے اور پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہو۔

تازہ ترین