ڈیموکریٹک رہنما چک شومر کا کہنا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ڈیموکریٹک رہنما نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون ساز آئندہ ہفتے ایک قرارداد منظور کرانے کی کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے ایک بار پھر ایسی قرارداد منظور کرانے کی کوشش کریں گے جس کا مقصد ایران کے ساتھ جنگ کو روکنا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی بھی مزید فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کا پابند بنانا ہے۔
چک شومر نے کہا کہ خاص طور پر اس خطرناک وقت میں کانگریس کو اپنی آئینی اتھارٹی دوبارہ قائم کرنی چاہیے۔
انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان حالیہ مہینوں میں متعدد بار ایسی قراردادیں منظور کرانے کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔
ان قراردادوں کا مقصد صدر کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی منظوری حاصل کرنے کا پابند بنانا تھا۔
کانگریس میں ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن جماعت تقریباً متفقہ طور پر ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔
اگرچہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم یہ پابندی قلیل مدتی کارروائیوں یا فوری خطرے کی صورت میں لاگو نہیں ہوتی۔
دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما، نیویارک سے رکن کانگریس حکیم جیفریز نے بھی کہا ہے کہ ایوان کو ایران کے خلاف جنگ محدود کرنے کے لیے قرارداد پر ووٹ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیر ذمے دارانہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہیے۔