امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے ایران جنگ کے تناظر میں ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید میزائل خطرات کے خلاف مؤثر دفاعی صلاحیت سے محروم ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، چائنا، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں پر تشویش پائی جا رہی ہے، جس نے واشنگٹن کو اپنے دفاعی نظام میں موجود بڑی خامیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں ایک سماعت کے دوران پینٹاگون کے سینئر عہدیدار مارک برکووٹز نے بتایا کہ امریکا کے پاس اس وقت ہائپر سونک ہتھیاروں یا جدید کروز میزائلوں کے خلاف کوئی مؤثر دفاعی نظام موجود نہیں۔
انہوں نے سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کو بتایا کہ حریف ممالک اب غیر بیلسٹک خطرات، بشمول ہائپر سونک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل تیار کر رہے ہیں جو براہِ راست امریکی سر زمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مارک برکووٹز کے مطابق امریکا کا موجودہ دفاعی نظام نہایت محدود ہے، اس وقت ہمارے پاس زمین پر مبنی ایک واحد سطحی دفاعی نظام ہے، جو خاص طور پر شمالی کوریا جیسے محدود حملوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ دیگر بیلسٹک میزائل حملوں کے خلاف بھی امریکا کی صلاحیت محدود ہے، جبکہ جدید کروز اور ہائپر سونک میزائلوں کے خلاف کوئی دفاع موجود نہیں۔
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے جامع میزائل دفاعی نظام ’گولڈن ڈوم‘ پر کام کر رہی ہے، اس منصوبے کی لاگت 175 سے 185 ارب ڈالرز کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
یہ نظام مصنوعی ذہانت پر مبنی کمانڈ، زمینی، فضائی، بحری اور خلائی دفاعی نظاموں کو یکجا کرے گا، جس کا مقصد بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں سمیت مختلف فضائی خطرات سے ملک گیر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکی خلائی فورس کے جنرل مائیکل گیٹلین کے مطابق اس منصوبے کو 2028ء تک فعال بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی لاگت 2030ء کی دہائی تک 185 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔
سماعت کے دوران امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل ہیتھ اے کولنز نے کہا کہ برسوں کی کم سرمایہ کاری کے باعث امریکا ’صلاحیتی قرض‘ (capacity debt) کا شکار ہو چکا ہے، جس سے دفاعی نظام کی تیاری اور بڑے پیمانے پر جنگی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں وقت درکار ہو گا۔
امریکی قانون سازوں نے منصوبے کی لاگت اور فنڈنگ کے طریقہ کار پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر انگس کنگ نے اسے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کانگریس کی نگرانی کمزور ہو سکتی ہے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا روایتی جوہری ڈیٹرنس (روک تھام) کی پالیسی اب بھی مؤثر ہے؟
اس پر مارک برکووٹز نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتِ حال سرد جنگ کے دور سے زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے، جہاں متعدد جوہری طاقتیں جدید میزائل صلاحیتوں کے ساتھ موجود ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میزائل دفاعی نظام ڈیٹرنس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
مارک برکووٹز نے اسے ’تلوار اور ڈھال‘ دونوں قرار دیا جو قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور شہریوں کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے۔