بھارتی شہر اندور سے تعلق رکھنے والی سونم رگھوونشی کو اپنے شوہر راجہ رگھوونشی کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے ضمانت دے دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہنی مون قتل کیس کی مرکزی ملزمہ سونم رگھوونشی کی درخواست اس سے قبل 3 بار مسترد ہو چکی تھی۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ پولیس کی ایک بڑی کلیریکل غلطی اس فیصلے کی اہم وجہ بنی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق سونم کی گرفتاری کے وقت اسے قتل کی درست دفعہ سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
مقدمہ بھارتی قانون کے مطابق 2023ء کی دفعہ 103 کے تحت درج کیا گیا تھا مگر گرفتاری کی دستاویزات میں غیر موجود دفعہ 403(1) درج کی گئی تھی جو اس قانون میں شامل ہی نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تمام سرکاری کاغذات میں یہی غلط دفعہ لکھی گئی اور کہیں بھی ملزمہ کو قتل کے الزام سے باقاعدہ آگاہ نہیں کیا گیا، عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ صرف معمولی غلطی تھی کیونکہ یہ غلطی ہر دستاویز میں دہرائی گئی۔
مزید یہ بھی سامنے آیا کہ ابتدائی پیشی کے دوران سونم کے پاس وکیل موجود نہیں تھا، اس لیے وہ بروقت اعتراض نہیں اٹھا سکی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے 4 شرائط عائد کی ہیں جن میں عدالت میں حاضری یقینی بنانا، ملک سے فرار نہ ہونا، گواہوں پر اثر انداز نہ ہونا اور 50000 روپے کے مچلکے جمع کروانا شامل ہے۔
یاد رہے کہ راجہ رگھوونشی اور سونم کی شادی 11 مئی 2025ء کو ہوئی تھی اور دونوں ہنی مون کے لیے میگھالیہ گئے تھے۔
2 جون کو راجہ کی لاش برآمد ہوئی تھی، سونم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مبینہ ساتھی کے ساتھ مل کر شوہر کے قتل کی منصوبہ بندی کی جبکہ دیگر شریک ملزمان تاحال عدالتی تحویل میں ہیں۔