بوسنیا و ہرزیگووینا نے کروشیا کے ساتھ ایک اہم گیس پائپ لائن معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد روسی گیس پر انحصار کم کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ ڈوبروونک میں ہونے والے اجلاس میں طے پایا جہاں بوسنیا کی وزیرِ اعظم بورجانا کرسٹو اور کروشیا کے وزیرِ اعظم آندرے پلینکووچ نے دستخط کیے۔
یہ منصوبہ بوسنیا کو کروشیا کے جزیرے کرک پر قائم مائع گیس ٹرمینل سے جوڑے گا جس کے ذریعے متبادل گیس سپلائی ممکن ہو گی۔
اس اقدام کو بوسنیا کے لیے توانائی کے تحفظ میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یورپی اتحاد نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ شفافیت کی کمی بوسنیا کی رکنیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یورپی حکام کے مطابق توانائی کے شعبے میں قوانین کو اتحاد کے اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تقریباً 1.5 ارب ڈالرز مالیت کا ہے اور اس میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں تاکہ کوئلے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ادھر اس منصوبے میں شامل امریکی کمپنی کی قیادت ایسے افراد کر رہے ہیں جن کے تعلقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رہے ہیں جس پر شفافیت کے حوالے سے مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔