• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرحد پر فوجی مشقیں، کیا مصر اسرائیل کو دھمکی دے رہا ہے؟

— تصویر غیر ملکی میڈیا
— تصویر غیر ملکی میڈیا

اسرائیل اور مصر کی سرحد کے قریب حالیہ فوجی مشقوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا واقعی مصر اسرئیل کو دباؤ میں لانے یا دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے یا یہ معمول کے تحت ہونے والی سرگرمی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سرحدی علاقوں، خصوصاً غزہ کے قریب رہنے والے شہریوں نے سیناء میں مصر کی لائیو فائر مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے سے قبل کے حالات کی یاد دلاتی ہے، جس میں 1 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق فائرنگ کی آوازیں اسمگلنگ یا ممکنہ حملوں کے لیے پردہ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے باعث خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

کیا مصر واقعی دباؤ ڈال رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس کا امکان کم ہے، 1979ء کے امن معاہدے کے تحت سیناء کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں فوجی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، سرحد کے قریبی علاقوں میں کسی بھی بڑی فوجی سرگرمی کے لیے اسرائیل کی پیشگی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ مشقیں بھی اسی معاہدے کے تحت باہمی رابطے اور منظوری سے کی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر کمزور پڑتا ہے کہ مصر یک طرفہ طور پر کوئی جارحانہ قدم اٹھا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا میں متضاد بیانیہ

اگرچہ یہ مشقیں باقاعدہ ہم آہنگی سے کی جا رہی ہیں، تاہم کچھ اسرائیلی حلقے انہیں وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں نے مصر کے حالیہ سفارتی مؤقف، خصوصاً ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر اس کی پالیسیوں کو بھی اس تناظر میں جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

دوطرفہ تعلقات کی نوعیت

مصر اور اسرائیل کے تعلقات کو اکثر سرد امن کہا جاتا ہے، یعنی باضابطہ طور پر مستحکم لیکن جذباتی یا عوامی سطح پر محدود ہے۔

2023ء کے بعد غزہ میں جاری کشیدگی کے باعث تعلقات میں تناؤ ضرور بڑھا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور معاشی تعاون اب بھی جاری ہے، مثال کے طور پر 2025ء میں دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز کا گیس معاہدہ طے پایا۔

اسی دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی سخت بیانات دیے، جس سے سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا لیکن عملی تعاون ختم نہیں ہوا۔

نتیجہ

حالیہ صورتِ حال میں اگرچہ سرحدی آبادی میں خدشات پائے جاتے ہیں لیکن دستیاب شواہد کے مطابق مصر کی فوجی مشقیں کسی فوری جارحیت یا دھمکی کا اشارہ نہیں دیتیں۔

دونوں ممالک کے درمیان رابطہ اور معاہداتی فریم ورک اب بھی فعال ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی غیر ارادی تصادم یا بڑے تنازع سے بچاؤ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید