ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران پانی کی کمی اور جسمانی درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی گردوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، جس سے گردوں کی پتھری اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق 37 ڈگری سے زائد درجہ حرارت والے ہیٹ ویو اب عام ہو چکے ہیں۔ صرف زیادہ پانی پینا کافی نہیں، بلکہ درست طریقے سے پانی اور غذائی اجزاء کا استعمال ضروری ہے۔
پسینے کے ذریعے پانی کی کمی کے باعث کیلشیم، آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ کرسٹل بن کر پتھری پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک ساتھ بہت زیادہ پانی پینا خون میں سوڈیم کو کم کر کے تھکن، سر درد اور چکر کا باعث بن سکتا ہے جبکہ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال گردوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
ابتدائی علامات میں پشاب کا گاڑھا ہونا بدبودار ہونا یا پھر اس کی مقدار میں کمی شامل ہے۔
اسی طرح پیشاب کے دوران ہلکی جلن، مسلسل پیاس اور تھکن، کمر یا پہلو میں درد بھی اس کی علامات میں شامل ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دن بھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے پانی پئیں، صرف پیاس لگنے پر نہیں پئیں۔
ماہرین کے مطابق سادہ پانی بہترین ہے، سخت جسمانی کام کرنے والے افراد معتدل الیکٹرولائٹ سپلیمنٹ لے سکتے ہیں۔
احتیاطی تدبیر بتاتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ سبزیاں اور ٹھنڈے پھل زیادہ استعمال کریں، سخت دھوپ یا ورزش کے بعد فوراً ٹھنڈا شاور نہ لیں اور پیشاب میں تبدیلی یا کمر درد کو نظرانداز نہ کریں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔