28فروری کو ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیلی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ہی نہیں بلکہ اسکے ارد گرد کے خطوں کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جب جنگ کا آغاز کیا ،تو صدر ٹرمپ اور نیتن یاہوکے بیانات سے یہ دعوے ہو رہے تھے کہ تین چار دن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہلا کررکھ دینے کے بعد ایرانی اقتدار کا نظام گرتے ساتھ ہی، دوسرے دائرے کی ایرانی قیادت امریکہ اور اسرائیل کے آگے سرنگوں ہو جائیگی اور یوں بیرونی حملہ آوروں کی تمام شرائط منظور کرتے ہوئے، ایران کے فیصلے امریکہ اور اس کے تمام اتحادی کرنے لگیں گے ۔لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔ اسکی وجہ ایران کی طرف سے بھرپور دفاعی مزاحمت اور امریکہ کے خطے میں موجود فوجی ٹھکانوں ،جو کہ خلیج تعاون کونسل کے سات ممالک میں موجود ہیں،کو ایرانی میزائلوں نے اور اسی کیساتھ اسرائیل کے اندر تک جواب دینےکے عمل نے چکنا چور کر دیا۔ امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈّے جو خلیجی ممالک کے دفاع کیلئے قائم کئے گئے تھے نہ صرف ان ممالک کے دفاع کرنے میں ناکام ہوئے بلکہ یہ فوجی اڈّے ان ممالک کیلئےخطرے کی شکل اختیار کر گئے۔ایران کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کا استعمال جدید مواصلات کے نظام کے ذریعے ہی ممکن ہوا،جسکے تحت ایران نے طے شدہ اہداف پر حملے کئے ہیں جس پر امریکہ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو سیٹلائٹ سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ اسٹرٹیجک سیاست کے عالمی ماہرین کے مطابق ایران نے اپنا دفاع اور مزاحمت اکیسویں صدی کی جنگی ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا اور یوں امریکہ کی خلیج میں فوجی تنصیبات در حقیقت بیسویں صدی کی وار مشینری ثابت ہوئیں، ایران کی دفاعی صلاحیت جو چین اور روس کے مرہونِ منت ہےجہاں اس نے خطے کے جنگی میدان بننے پر امریکہ کی وار مشینری کو غیر اہم ثابت کر دیا وہیں چین کی جدیدوار مشینری کی دنیا میں بالادستی ثابت کر دی۔ بالکل ایسے ہی جیسے گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے جدید وار مشینری کی بنیاد پر بھارت کے جارحانہ جنگی جنون کو ڈراؤنے خواب میں بدل دیا وہ چینی ٹیکنالوجی کا پہلا عالمی مظاہرہ تھا۔اس جنگ میں ابھی تک امریکہ نے ایران کی فوجی تنصیبات سے کہیں زیادہ سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا ہےجن میں اسپتال، یونیورسٹیاں، پاور پلانٹس، آئل ریفائنریز، پُل اور پانی سمیت دیگر شہری سہولیات کو تباہ کرنا شامل ہے
اس جنگ نے اہم علاقائی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے، جس میں پاکستان کا عالمی سیاست میں ایک Peace Maker اور اعتماد کی جانیوالی ریاست کا کردار اُبھرا ہے۔جس پر ایران، امریکہ، روس، سعودی عرب، ترکی، چین اور دیگر ممالک جنگ بندی معاہدے اور امن کے قیام کیلئے تسلیم اور اعتماد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اس میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان اور چین کی طرف سے پانچ نکاتی امن معاہدے کیلئے سفارتی سرگرمیاں اپنے عروج پہ ہیں۔اس جنگ کے نتائج میں یہ تبدیلیاں برپا ہونگی۔ امریکہ کے یونی پولر نظام کا خاتمہ اور ملٹی پولر نظام کا اُبھرنا ،جس میں چین اورروس، امریکہ کیساتھ عالمی طاقتیں جانی جائینگی۔ خلیجی ممالک کے جی سی سی اتحاد میں مزید شگاف پڑیگا جس میں متحدہ عرب امارات امریکہ اور اسرائیل کے مزید قریب جبکہ سعودی عرب کا مزید خود مختار خارجہ اور دفاعی پالیسی کی طرف گامزن ہونا،سعودی عرب دفاعی اور اقتصادی حوالے سے چین اور یورپ کے مزید قریب ہو گا۔ سلطنتِ عمان مزید تجارتی مرکز بنے گا اور علاقے میں سیاسی توازن میں بھی طاقت پکڑے گا۔جبکہ قطر نے ابھی سے اعلان کر دیا ہے کہ اسکے ملک سے امریکی فوجی اڈّے ختم کر دیئے جائیں۔ اسرائیل اس جنگ کے نتیجے میں مزید مضبوط ہو گا اور وہ اپنی سرحدوں کو گولان کی پہاڑیوں ،شام اور لبنان تک توسیع دینے میں کامیاب ہوگا،ابھی تک وہ لبنان کے 20فیصدرقبے پر قابض ہو چکا ہےاور اسی کیساتھ وہ جنوبی لبنان کی بستیوں کو غزہ ماڈل پر بارود سے تباہ کرنے پر عمل پیرا ہے۔ نیٹو اتحاد میں نہ صرف شگاف،Trans-Atlantic اتحاد میں مزید خلیج بڑھے گی۔ چین اگلے آٹھ نو سال میں امریکہ سے بڑی معیشت بنکر اُبھرنے کے سفر کو تیزی کی طرف لے جائیگا۔ بھارت عالمی سیاست میں ناقابل یقین حد تک تنہائی کا شکار ہو گا۔عالمی تجارت میں چینی کرنسی، ڈالر کے مقابلے میں آگے بڑھے گی اورBRICS جسکی عملی قیادت چین کرتا ہے اسکا کردار مزید طاقت پکڑے گا۔ برکس میں چین، روس، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ شامل ہیں،اس میں شامل ممالک دنیا کی چالیس فیصد آبادی اور 39فیصد عالمی جی ڈی پی کا حامل ہے یہ اتحاد مغربی سرمایہ داری کیلئے مزید چیلنج بن کر اُبھرے گا۔امریکہ کے پالیسی ساز اس جنگ کے بعد اپنی بیسویں صدی کے جنگی نظام کو چین کے مقابل لانے کیلئے غور کریں گے،جس پر عمل کیلئےاُنکے پاس وسائل اور وقت دونوں ہی کم ہیں اور اس دوران چین عالمی سطح پر جنگی بالادستی میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں اسّی ممالک میں جواسکے 750فوجی اڈّے اور173000فوجی مستقل بنیادوں پر تعینات ہیں، اُن میں کمی کرنے پر مجبور ہو گا۔
پاکستان اس جنگ کے بعد علاقائی اور عالمی سیاست کے تضادات سے فائدہ اُٹھانے میں قابل رشک مقام پر کھڑا ہے۔اور اگر وہ عالمی تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے چین کے مزید قریب ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستان طاقتور ریاست بلکہ ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کی طرف سفر کرنے کا آغازکر سکتا ہے۔ایسے میں وہ امریکہ پر کم انحصار کرنے کا نادر موقع حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔