ایمسٹرڈیم میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے گزشتہ روز ایک بڑی عوامی تقریب کے انعقاد کی کوشش کی گئی، تاہم یہ پروگرام توقعات کے برعکس بری طرح ناکام ہو گیا۔
تقریب کے لیے ایک وسیع ہال بک کیا گیا تھا جس میں پانچ ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود تھی، مگر شرکاء کی انتہائی کم تعداد نے انتظامیہ کو مایوس کر دیا۔
تقریب میں شرکت کے لیے یوٹیوبرز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ برسلز، فرانس اور جرمنی سے بھی پارٹی کارکنان کو بلایا گیا، تاہم مقامی کمیونٹی کی عدم دلچسپی کے باعث پروگرام کامیاب نہ ہو سکا۔
ہالینڈ میں مقیم ایک سرگرم نوجوان سیاسی شخصیت شرجیل اعوان کا کہنا تھا کہ یورپ میں پاکستانی کمیونٹی پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کمیونٹی اب مثبت کردار اور پاکستان کی ترقی پر توجہ دینا چاہتی ہے، منفی پروپیگنڈے کو مسترد کیا جا رہا ہے اور اداروں کے خلاف بیانیے نے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریب سے قبل کمیونٹی میں متعدد کارنر میٹنگز کی گئیں جن میں لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اسی مہم کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد نے تقریب کا بائیکاٹ کیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریب کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور باہمی عدم تعاون تھا۔
ان کے مطابق کارکنان میں تقسیم واضح تھی اور کچھ افراد پروگرام کو ناکام بنانے میں سرگرم تھے جبکہ انتظامی سطح پر سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کا فقدان تھا۔
اس کارکن کا کہنا تھا کہ اگر درست منصوبہ بندی کی جاتی تو مہمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پروگرام کو کامیاب بنایا جا سکتا تھا۔ اس موقع پر قیادت کے ملے جلے جذبات دیکھے گئے۔
ذرائع کے مطابق تقریب میں کم حاضری پر نامور یوٹیوبرز نے مایوسی کا اظہار کیا جبکہ مقامی قیادت بھی صورتحال پر تشویش میں مبتلا نظر آئی۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ یورپ میں پی ٹی آئی کی تنظیمی حالت اور پاکستانی کمیونٹی کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب کمیونٹی زیادہ محتاط اور عملی سوچ اپنا رہی ہے اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت سے پہلے بیانیے اور مقصد کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ پارٹی کے اندرونی مسائل اس کی بیرون ملک کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔