برطانیہ میں موسمی تبدیلی اور گرمی کی شدت بڑھنے کی وجہ سے ائیر کنڈیشنگ گھروں کی تعداد میں تیزی کےساتھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک سروے کے مطابق ائیر کنڈیشنگ گھروں کی تعداد 3 سال میں تقریباً دو گنا ہو کر 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
برطانیہ میں تواتر کےساتھ بڑھنے والے درجہ حرارت کی بدولت ایک بڑی تعداد اپنے گھروں کو ناقابل رہائش قر ار دیکر حالات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔
(1kW)کے ارد گرد پاور ریٹنگ والے پورٹ ایبل یونٹس زیادہ طاقتور بلٹ ان ورژنز کے مقابلے میں قدرے عام ہیں، جو 2.7kW پاور کو گلا سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کچھ سال سے موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے، گرم ترین دن جولائی 2022میں ریکارڈ کیاگیا ہے، جب درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچا اور لوگ سخت پریشان ہوگئے۔
لندن کے ایئر کنڈیشنگ ڈیبونیر کولنگ چلانیوالی آریا ٹوپچی کا کہنا ہے کہ کولنگ سسٹم کی مانگ پرانے اور نئے تعمیر ہونیوالی پراپرٹیز مالکان دونوں کی طرف سے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اونچے مقامات پر کمروں میں درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ تک جاتا دیکھا ہے، جو رہائش کے قابل نہیں‘عالمی حرارت کے پیش نظر پردے‘ کھڑکیاں‘ اور سایہ دار درخت جیسے اقدامات کےساتھ ائیر کنڈیشنگ کی ضرورت پیش آئےگی ۔
گلوبل ہیٹنگ کے اثرات کی وجہ سے 2050ء تک برطانیہ میں ہیٹ ویوز کے 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے اور ہر10 میں سے 9گھروں میں شدید درجہ حرارت کا امکان ہے۔