• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ Blessing In Disguise۔ اسی طرح ہم مسلمانوں تک یہ بات عربی زبان سے پہنچی کہ جب ربِ ذوالجلال کسی کو کسی عظیم مقصد کیلئے تیار کرنا چاہتا ہے تو وہ اُسےمشکلات کا شکار کر دیتا ہے۔ ہم اِن تینوں کہاوتوں کی گہرائی میں پہنچنےکیلئے موجودہ جنگ تو ڈسکس کریں گے ہی۔ مگر اس سے پہلے جنگ عظیم دوم کے نتائج پر ذرا غور کریں تو جس برٹش امپائر میں سورج ڈوبتا ہی نہ تھا وہ جنگ کےبعد مالی و سیاسی طور پر اتنی کمزور ہوگئی کہ اسے دنیا بھر سے اپنا بوریا بستر لپیٹنا پڑا اور برصغیر آزاد ہوگیا۔ امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ کی طرف آنے سے پہلے اس پہلو پر غور کیجئے کہ ابتدامیں امریکی صدر ٹرمپ کا سب سے بڑا بیان کردہ جنگی مقصد ”رجیم چینج“ تھا۔ رہبرِمعظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انکے بیٹے کو نیا سپریم لیڈر بنانے کیخلاف ٹرمپ نے واضح دھمکیاں دیں۔ تاہم انکے بیٹے مجتبیٰ کے رہبر بن جانےکے کچھ دن بعد ٹرمپ بولے کہ امریکہ نے ایران کو نیا سپریم لیڈر بنانے پر مجبور کیا ہے اسلئے ہم نے ”رجیم چینج“ کا مقصد حاصل کر لیا ۔ مگر پھرایک اور یُو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ”رجیم چینج“ تو ہمارا مقصد تھا ہی نہیں! یہی نہیں ٹرمپ کا مسخرہ پن ہنوزجاری ہے۔ کبھی کہتا ہے آبنائے ہُرمُز کھلوانے کی ضرورت نہیں۔ یورپین ممالک تیل امریکہ سے خریدیں۔ کبھی انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ہتھیار اُٹھاؤ اور خود جنگ کر کے کھلوا لو۔ کبھی اپنے ان اتحادیوں کو بچوں کی طرح طعنے دیتے ہوئے خود نیٹو سے نکل جانے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے اور کبھی ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے کی بڑھک۔ Wishful thinking سےلگتا ہے ٹرمپ کو اب اپنی جان چھڑانے کا طریقہ سمجھ نہیں آرہا۔اِس طرح کا مسخرہ پَن وہی کرتا ہے جسکے ”دانے مُک“ جائیں۔ اور واقعی نہ صرف ٹرمپ کے ذاتی بلکہ امریکہ کےبھی ”دانے مُک“ گئے ہیں۔ اس جنگ کیوجہ سے ٹرمپ کی پاپولیرٹی امریکی تاریخ کےتمام صدور کی نسبت کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں بین الاقوامی تجارت ڈالر کی بجائےچینی کرنسی یُوآن میں ہواکرئیگی۔ نتیجتاً برطانیہ کی طرح امریکہ بھی قصہ پارینہ بن جائیگا۔ جبکہ دنیا کی قیادت چین اور پاکستان کرینگے۔ ٹرمپ کے 15 نکات رد کرکے ایران نے انتہائی معقول 5 نکات پیش کیے ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نئے رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنہ ای لیڈرشپ والی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ اور شیطانی ریاست اسرائیل کے خاتمے اور پورے فلسطین کی مکمل آزادی و خود مختاری تک قیادت کرنے کے بھرپور جذبے سے سرشار ہیں۔ تاہم یہ پانچ معقول ترین پوائنٹس سنتے ہی ٹرمپ اُس شعلے کی طرح بھڑک اٹھا جو چند لمحوں میں بجھنے والا ہو اور اُس نے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن اس جنگ کے نتائج میں وہ اہم ترین بات بھی شامل ہے جسکا اشارہ ہم نے ابتدا میں کیا تھا۔ دنیا کی بین الاقوامی معزز عدالت نے آخر کار وہ رولنگ دے ہی دی ہے کہ ”اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ غاصبانہ ہے۔اسلئے ریاست اسرائیل فی الفور ختم ہونی چاہئے۔ اور ساری فلسطینی زمین پر ریاست فلسطین قائم ہو نی چاہئے“۔

میری نظر میں اسرائیلی باشندوں کو واپس اپنے اصلی ملک جہاں سے ”باالفور معاہدے“ کے تحت وہ فلسطین آئے تھے واپس چلا جانا چاہیے۔ جس طرح جنگ عظیم دوم برطانوی سلطنت کے زوال کا باعث بنی تھی اورکئی محکوم ممالک آزاد ہوئے تھے۔ بالکل موجودہ جنگ کا نتیجہ امریکہ کا زوال اور تباہی ہے جبکہ برطانیہ اور امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی اصل وجہ مسئلہ فلسطین ہے۔ درحقیقت ایران ساری دنیا کے امن کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جب تک شیطانی ریاست اسرائیل قائم رہے گی اس وقت تک ساری دنیا میں بد امنی رہے گی۔ موجودہ جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہےاسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں۔ اسلئے ایران کی مدد دراصل ساری دنیا کی اور اپنی مدد ہے۔ ایرانی قیادت کیلئے ایک انتہائی مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ ٹاپ کے لیڈر اپنی حفاظت کو فول پروف بنائیں کیونکہ امریکی انٹیلیجنس کے سیٹلائیٹس اُنکی تصاویر لے لیتے ہیں۔ اور ٹارگٹڈ شخص کے چہرے کے پرنٹ متعلقہ میزائل میں فِیڈ کرکے میزائل داغ دیا جاتا ہے۔میزائل کا یہ سسٹم کسی مجمع یا عمارت کے اندر بھی متعلقہ شخص کو تلاش کرنے کے قابل ہے اور اس سے ٹکرا کراسے شہید کر دیتا ہے۔ یہ ایک بالکل اچھوتی سائنسی ٹیکنالوجی ہے۔ روایتی گولوں اور میزائلوں کے برعکس اسکے ذریعے نشانہ متعلقہ چہرہ ہوتا ہے نہ کہ عمارت یا جگہ۔ ایرانی اتھارٹیز اس غلط فہمی سے نکلیں کہ کوئی مقامی انسان ان کی جاسوسی کر دیتا ہے۔ یہ اوپر گھومتی ٹیکنالوجی کا کیا دھرا ہے۔ بہرحال ایرانیوں کی قربانیاں رنگ لائینگی اور ساری دنیا کو آپس میں لڑانے والی وجہ ختم ہو گی۔ اس جنگ کی ذمہ داری لینے کے معاملے میں موساد اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کا کھل کر سامنے آنا،امریکی حکومت کو گمراہ کرکے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لانے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا نیتن یاہو کو سرعام میڈیا کے سامنے (نیتن یاہو کی غیر موجودگی میں) ڈانٹ پلانا ، نیٹو اور دیگر اتحادیوں کے سامنے امریکہ کی کریڈیبلٹی زیرو ہو جانا، امریکی صدر کا حواس باختہ ہو کر اخلاقیات کے فرش پر یہ کہہ کے اوندھے منہ گرنا اور سعودی پرنس کے بارے گھٹیا زبان استعمال کرنا۔اِس جنگ کےپیدا کردہ یہ تمام عوامل امریکہ کے مکمل زوال اور اسرائیل کے منطقی اختتام کی ابتدا ہی تو ہیں ! اگرچہ ہمیں غزہ اور ایران کے جانی و مالی نقصان کا دلی دکھ ہے مگر یہ بھی یقینِ کامل ہے کہ ہم ان مشکلات کا شکار عظیم مقاصد کے حصول کیلئے ہوئے ہیں۔ یہ جنگ غلاف میں چھپی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ اِس کے بعد ساری اُمت تاقیامت سیدھا ہو کے اور سینہ تان کے چلے گی۔

تازہ ترین