آج کل ہر خبر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی شدید جنگ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اخبارات، ٹی وی ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر ہر رنگ اور ہر نوع کے تبصرے جاری و ساری ہیں۔ سب سے پہلے امریکی نفسیات اور جنگی جارحیت کی تفہیم کیلئے اس کی گزشتہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجئے، سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔ ویت نام سے لے کر وینزویلا اور اب ایران تک امریکی سفاکیت اور جارحیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکہ کی نفسیات پر غور کیجیے۔ امریکہ کسی ملک سے کہتا ہے، میرے لیے قربانی دے دو، قربانی دینے والا ملک کہتا ہے کہ ’’میں نے قربانی پہلے بھی دی تھی‘‘ امریکہ فوری طور پر جواب دیتا ہے۔’’کب؟ مجھے تو یاد ہی نہیں‘‘ وہ ملک کہے گا۔ ’’جناب امریکہ صاحب! میں تو آپ کیلئے زخم زخم بھی ہوا تھا۔‘‘ ’’اچھا۔ کب کی بات ہے؟‘‘ ویری گُڈ، ویری گُڈ، میری خاطر اسی طرح قربانیاں دیتے رہو۔‘‘ کیری آن! مائی بڈی، کیری آن۔‘‘ امریکہ کی خاطر قربانیاں دینے والا ملک اپنے خون سے بھری بالٹیاں بھی دکھا دے گا۔ پہلے تو امریکہ یہ کَہہ دے گا۔ ’’یہ وائٹ ہائوس ہے، یہاں سُرخ رنگ سے بھری بالٹیوں کا کیا کام؟ تمہیں گارڈوں نے روکا نہیں۔ اٹھائو اپنی سُرخ رنگ کی بالٹیاں۔‘‘ ہم زیادہ دور نہیں جاتے۔ امریکہ کے خون بہائو اور موج اڑائو پروگرام کا عملی نمونہ افغانستان میں شروع ہوا۔ تو ہم مسلمان یہ سوچتے تھے کہ شاید یہ امریکہ کا آخری خونیں پروگرام ہو لیکن اگلی خونیں قسط ایران میں جاری کر دی گئی۔ کیوںکہ افغانستان میں نہ تو تیل کے کنوئیں تھے اور نہ امریکہ کو سونے چاندی کے پہاڑوں کی فوری چمک دکھائی دے رہی تھی۔ اس لیے دولت کی چمک امریکہ کو مڈل ایسٹ ہی میں نظر آئی۔
اسرائیل کا ون لائن ایجنڈاکیا ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ عراق کے صدام کو زیرِ دام لانے کا مقصد کیا تھا؟ صدام حسین کی کسی حد تک ایک ملٹری پاور تھی جس سے اسرائیل خطرہ محسوس کرتا تھا۔ اس خطرے کا امریکی پروپیگنڈا اس طرح کیا گیا کہ صدام بہت خطرناک حکمران ہے اور اس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں جو اِرد گرد کے ممالک اور انسانیت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ پھر کیا تھا، امریکہ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا دیا گیا۔ عراق کی تباہی کے پیچھے اسرائیل ون لائن ایجنڈا تھا۔
لیبیا کے کرنل قذافی کبھی کبھار امریکی سامراج کو للکارتے تو ہم سمجھتے کہ کوئی تو ہے جو امریکہ کے سامنے بڑھک لگاتا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ لیبیا کو بہلا پھسلا کر اس کا نیوکلیئر پروگرام رول بیک کروایا گیا۔ اس کے پیچھے بھی اسرائیلی ایجنڈاکار فرما تھا۔ شام کی تباہی میں بھی اسرائیلی توسیع پسند ایجنڈا صاف دکھائی دیتا ہے۔ غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیل نے جو مظالم ڈھائے ہیں اس کے سامنے تو جنگل کے خونخوار درندے اور بڑے بڑے ہٹلر اور ہلاکو خاں بھی بے ضرر معلوم ہوتے ہیں۔اسرائیل کسی اخلاق، کسی قدر اور کسی اصول کو نہیں مانتا اور اسرائیل کے ہر عمل کی پُشت پناہی میں امریکہ کی ویٹو پاور اور شانہ بہ شانہ حمایت شامل ہے۔
مڈل ایسٹ کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا مطلب کیا ہے؟ اسرائیل کا دفاع اور اس کے توسیع پسند منصوبوں کی تکمیل۔ غزہ، لبنان اور شام تک اسرائیل بدمست ہاتھی کی طرح دندناتا پھر رہا ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ ابھی تک اسلامی ممالک اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس ڈپلومیسی اور بیانیہ بنانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئے۔ اسرائیل معصوم بچوں، معصوم شہریوں، اسکولوں، ہسپتالوں، ڈاکٹروں، نرسوں، ایمبولینسوں، صحافیوں، فیکٹریوں، کارخانوں، بجلی گھروں، مکانوں، دکانوں اور گلی محلوں پر بم برساتا ہے اور پوری دنیا میں وہ کسی عدالت، کسی ادارے یا کسی پنچایت کے آگے جواب دہ نہیں۔ جیسے سانپ کسی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا۔ آپ دیکھیں کہ ایران پر حملہ آور تو امریکہ اور اسرائیل ہوئے ہیں۔ جب ایران کی اعلیٰ قیادت معروف رہنمائوں اور سیاسی شخصیات کو پہلے ہی حملے میں شہید کر دیا جاتا ہے تو باقی بات کیا رہ جاتی ہے۔ بات چیت تو کسی معروف رہنما یاسیاسی شخصیت سے ہوتی ہے۔ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ باریاں گننے کی بجائے اسرائیل کے مظالم اور اس کی جارحیت کے خلاف ٹھوس حکمتِ عملی اپنائیں ۔