• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ بطور کمانڈر اِن چیف خطرہ بن چکے ہیں: سابق سی آئی اے ڈائریکٹر

— تصاویر غیر ملکی میڈیا
— تصاویر غیر ملکی میڈیا

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی آئین میں شامل 25 ویں ترمیم دراصل ایسے ہی حالات خاص طور پر ٹرمپ جیسے صدور کو ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی تھی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جان برینن سابق صدر باراک اوباما کے دورِ صدارت میں سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ تھے۔

امریکی میڈیا ادارے ایم ای ناؤ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جان برینن نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی تہذیب کی ممکنہ تباہی سے متعلق ان کے ریمارکس ظاہر کرتے ہیں کہ وہ واضح طور پر غیر متوازن ہیں اور بطور کمانڈر اِن چیف خطرہ بن چکے ہیں۔

جان برینن کے مطابق ٹرمپ کا امریکی فوجی طاقت، خصوصاً جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول، انہیں ایک ناقابلِ قبول خطرہ بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ واضح طور پر غیر متوازن ہیں، میرے خیال میں 25 ویں ترمیم خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدور کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی تھی۔

ان کے اس بیان کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور صدر کے جارحانہ بیانات پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی آئین میں 25 ویں ترمیم صدارتی جانشینی اور صدر کی نااہلی سے متعلق امور کا احاطہ کرتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 ویں ترمیم کے تحت مواخذے کے نتیجے میں صدر کی برطرفی، صدر کی موت یا استعفے کی صورت میں نائب صدر، صدر بن جاتا ہے۔

یہ ترمیم عارضی طور پر صدارتی اختیارات نائب صدر کو منتقل کرنے کا طریقہ کار بھی فراہم کرتی ہے، جو 1965ء میں پیش کی گئی تھی جبکہ اس کی 1967ء میں توثیق ہوئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 سے زائد ڈیموکریٹک اراکینِ کانگریس پہلے ہی اس ترمیم کے نفاذ کا مطالبہ کر چکے ہیں، تاہم اس کے عملی امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر اراکین نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مکمل وفاداری کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید