امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری فراڈ 2026ء کی سب سے بڑی سائبر واردات بن چکا ہے۔
ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق صرف 2 سال کے دوران سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے ہونے والا فراڈ 87 فیصد بڑھ گیا ہے جبکہ شہریوں کے اربوں ڈالرز لُٹ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2023ء میں سرمایہ کاری فراڈ سے 4.6 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 8.6 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔
اسی دوران جعلی تکنیکی مدد اور کسٹمر سپورٹ فراڈ میں 131 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے 2.1 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔
لاٹری، انعامی اسکیم اور وراثتی دھوکا دہی کے کیسز بھی تیزی سے بڑھے ہیں جہاں نقصان 94 ملین ڈالرز سے بڑھ کر 194 ملین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے صرف سرمایہ کاری فراڈ میں 3.5 ارب ڈالرز سے زیادہ گنوائے تاہم اب نوجوان سرمایہ کار بھی جعلی شیئر تجاویز، فرضی منصوبوں اور دھوکا دہی پر مبنی سرمایہ کاری اسکیموں کا شکار بن رہے ہیں۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق فراڈیے عموماً سوشل میڈیا پیغامات، ای میلز یا فون کالز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور غیر حقیقی منافع کا لالچ دے کر فوری رقم یا کرپٹو کرنسی منتقل کرواتے ہیں۔
ایف بی آئی کی رپورٹ میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے تصدیق کریں اور مستند مالی مشیر سے رہنمائی ضرور لیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار جعلی ویڈیوز اور نقلی شخصیات کے باعث ایسے فراڈ مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔