• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق سی آئی اے افسر پر 4 کروڑ ڈالرز کی سونے کی اینٹیں چوری کرنے کا الزام

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق سینئر افسر پر ادارے سے 4 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے سونے کی اینٹیں چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق افسر ڈیوڈ رش پر الزام ہے کہ انہوں نے سی آئی اے سے 303 سونے کی اینٹیں غائب کر کے اپنے گھر میں چھپا رکھی تھیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈیوڈ رش نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں یہ سونا اور غیر ملکی کرنسی سرکاری اور کام سے متعلق اخراجات کے لیے درکار تھی۔

رپورٹس کے مطابق ملزم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ وہ اس وقت حراست میں ہے اور جلد اس کی حراستی سماعت متوقع ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ڈیوڈ رش پر جعلی ٹائم شیٹس جمع کرا کے سرکاری رقم حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

عدالتی دستاویزات میں ملزم کو امریکی حکومتی ادارے کے سابق سینئر ایگزیکٹیو سطح کے افسر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ڈیوڈ رش نے اپنی تعلیمی اسناد اور نیوی ریزرو سے متعلق معلومات بھی غلط فراہم کی تھیں۔

سی آئی اے اور ایف بی آئی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ادارے کی داخلی تحقیقات کے دوران قانون کی خلاف ورزیاں سامنے آنے پر معاملہ ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق نومبر 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران ڈیوڈ رش نے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور کروڑوں ڈالرز مالیت کا سونا حاصل کیا، تاہم بعد میں سی آئی اے اس سونے اور رقم کا ریکارڈ تلاش کرنے میں ناکام رہی۔

ایف بی آئی نے 18 مئی کو ورجینیا میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے تقریباً 303 سونے کی اینٹیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 1 کلو گرام بتایا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس سونے کی مالیت 4 کروڑ ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

چھاپے کے دوران تفتیش کاروں نے درجنوں لگژری گھڑیاں بھی قبضے میں لیں جن میں متعدد مہنگی رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

یہ واقعہ امریکی خفیہ اداروں کے لیے ایک بڑے اسکینڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید