• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمندری پنچھی…

آج ایک سمندری پنچھی میری منڈیر پر اتر آیا۔

پر سیاہ، آنکھوں میں طویل سفر کی تھکن اور اداسی۔

اس کی خاموشی میں بارود کی بو تھی۔

دیر تک سانس بحال کرتا رہا، جیسے سمندر اس کے پھیپھڑوں میں اٹکا ہو۔

اس کی آمد بے سبب نہیں تھی کہ جن آبناؤں پر وہ اترتا تھا،

وہاں اب جنگی بیڑے لنگر انداز تھے،

ایک دوسرے پر نظریں گاڑے، حملے کو تیار۔

مجھے یوں لگا، جیسے سمندر نے اس پنچھی کو خشکی پر بھیج دیا ہو۔

جیسے وہ محض پنچھی نہیں، کسی المیے کا آخری گواہ ہو۔

کچھ دیر بعد وہ پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ گیا،

یہ سوال چھوڑ کر کہ

جنگیں پہلے نقشے تبدیل کرتی ہیں،

یا پنچھیوں کے راستے؟

تازہ ترین