نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی نے اپنے نوعمری کے دور کی سوشل میڈیا پوسٹس میں نسل پرستانہ اور ہم جنس پرستی مخالف زبان کے استعمال پر معافی مانگی ہے۔
’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ’ہائپر الرجک‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں راما دواجی نے اعتراف کیا ہے کہ میں نے 15 سال کی عمر میں ایک پوسٹ میں نسل پرستانہ الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ حال ہی میں ’دی فری بیکن‘ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے بعد پرانی پوسٹس سامنے آنے پر مجھے شدید شرمندگی ہوئی ہے۔
راما دواجی نے کہا کہ میں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو دوسروں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں، میں اس پر شرمندہ ہوں، عمر کم ہونے کے باوجود یہ رویہ درست نہیں تھا اور میں معذرت خواہ ہوں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق راما کی جانب سے 2013ء کی ایک پوسٹ میں نسلی توہین آمیز لفظ کا استعمال کیا گیا تھا، 2015ء میں تل ابیب کے حوالے سے سخت سیاسی رائے بھی پوسٹ کی گئی تھی۔
اسی طرح بعض پوسٹس میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور امریکی فوج کے بارے میں متنازع خیالات بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب راما دواجی پہلی بار اپنے شوہر کے میئر بننے کے بعد گریسی مینشن میں ایک تفصیلی انٹرویو دے رہی تھیں۔
میئر ظہران ممدانی نے اپنی اہلیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری عہدے کا حصہ نہیں اور ان کے ماضی کے خیالات حکومت کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ راما دواجی نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کے حوالے سے بعض پوسٹس کو پسند کیا تھا جس پر بھی ان پر تنقید سامنے آئی ہے۔
ان کے کئی پرانے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حالیہ تنازع کے بعد ڈی ایکٹیویٹ یا ڈیلیٹ کر دیے گئے ہیں۔
راما دواجی نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ میری توجہ بطور فنکار اپنے کام پر ہے اور میں اپنے فن کے ذریعے سماجی و سیاسی موضوعات کو اجاگر کرتی رہوں گی۔