امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ’جب تک ضرورت ہو گی‘ جاری رہے گی جبکہ امریکا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
پیٹ ہیگسیتھ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے طے پانے والی عارضی جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیجی علاقوں میں ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا جائے گا۔
امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈین کین کے مطابق اب تک 13 بحری جہاز امریکی وارننگ کے بعد واپس لوٹ چکے ہیں، ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر طاقت استعمال کی جائے گی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں اور بیانات نے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
ادھر پاکستان کا ایک وفد تہران پہنچ گیا ہے تاکہ نئے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے جبکہ امریکا نے بھی بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔