بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بلا وجہ بیٹھے رہنے کے بجائے اپنے جسم اور ذہن کو متحرک رکھیں۔
83 سالہ امیتابھ بچن نے ایک نوٹ شیئر کیا جس میں انہوں نے زندگی کے مختلف لمحات میں مصروف رہنے اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
58 برسوں سے بھارتی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے امیتابھ بچن کئی زبانوں میں کام کر چکے ہیں اور آج بھی اپنی اداکاری سے ناظرین کے دل جیت رہے ہیں۔ وہ ہر ہفتے ممبئی میں اپنے گھر جلسہ کے باہر مداحوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔
اپنے تازہ بلاگ پوسٹ (ٹمبلر) میں انہوں نے متحرک رہنے اور مسلسل کام کرتے رہنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ زندگی میں حرکت اور مقصد برقرار رہے۔
اس موقع پر انھوں نے اپنے والد ہری ونش رائے بچن کی تحریر سے ایک اقتباس بھی شیئر کیا جس میں وقت کے تیزی سے گزرنے کا ذکر تھا۔ انہوں نے لکھا کہ بابو جی کے خیالات سے چند باتیں ہیں کہ دن گزرتے چلے جاتے ہیں، ابھی پچھلا مہینہ تھا اور اب اگلا آ گیا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ حرکت ہی اصل چیز ہے۔ جسم اور ذہن کو متحرک رکھیں۔ بغیر کسی وجہ کے بیٹھے رہنے اور اس حرکت کی طاقت میں فرق خود بخود ظاہر ہوگا۔
انکا کہنا تھا کہ صبر ایک ایسا لفظ ہے جسے ہر لمحہ حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر لمحہ صبر کا امتحان ہے۔ لیکن اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اچھا فائدہ ہوتا ہے، یہ مادی نہیں بلکہ فلسفیانہ ہوتا ہے۔ کسی بھی موضوع پر مطالعہ کرنا زندگی کی جنگ میں تیر نکالنے کے مترادف ہے۔ تیر کمان کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے۔ پہلے یہ دور سے لڑنے کا ہتھیار تھا، پھر توپ آئے اور اب میزائل ہیں۔
مقصد وہی ہے، فاصلے سے لڑنا، آج کل ہاتھوں کی لڑائی کم ہو گئی ہے اور دور بیٹھ کر جنگ لڑی جاتی ہے۔ میرے پردادا کی ایک کہانی بھی ہے، جو کسی اور دن سناؤں گا۔ فی الحال، محبت اور امن۔
جہاں تک کام کا تعلق ہے تو امیتابھ بچن کو آخری بار ہدایتکار ناگ ایشون کی فلم کالکی 2898 AD میں دیکھا گیا تھا۔ جس میں دیپیکا پدوکون، پرابھاس اور کمل ہاسن بھی مرکزی کرداروں میں نظر آئے۔
فلم نے دنیا بھر میں 1000 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا۔ وہ اس وقت اسی فلم کے سیکوئل کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔