امریکی حکومت نے گاڑیاں بنانے والے بڑے امریکی اداروں سے اسلحہ بنانے کا کام بڑھانے کی درخواست کردی۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے سینئر امریکی دفاعی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکی حکام نے جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت مختلف کار ساز کمپنیوں کے ٹاپ ایگزیکٹوز سے ملاقات کی۔ ابتدائی مذاکرات میں کہا گیا کہ وہ اسلحہ بنانے کے کام میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز نے وال اسٹریٹ جرنل کی خبر پر پنٹاگون سے رابطہ کیا تو حکام نے کہا کہ محکمہ جنگ اپنے جنگجوؤں کو بہترین اسلحے کی فراہمی کے لیے ڈیفنس انڈسٹریل بیس بڑھانے اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس دوران جبکہ پنٹاگون ایران پر امریکی حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحے کے متبادل کی فراہمی کے لیے کوشاں تھا، صدر ٹرمپ نے مارچ میں سات ڈیفنس کنٹریکٹرز سے ملاقات کی تھی۔
2022 میں یوکرین پر روسی حملے اور غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے بعد سے اب تک امریکا اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے ذخیرے کو استعمال کرچکا ہے۔
امریکی جریدے اسٹریٹ ٹائمز کے مطابق پنٹاگون مارچ 2025 کے اواخر میں برٹش ایئرو اسپیس، لاک ہیڈ مارٹن اور ہنی ویل سے اسلحہ گولہ بارود اور ویپن سسٹمز کی پیداوار بڑھانے کے نئے معاہدے کر چکا ہے۔
معاہدے کے تحت ہنی ویل ایئرواسپیس امریکا کے اسلحہ کے ذخائر کے اہم ترین کمپونینٹس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔ جبکہ لاک ہیڈ مارٹن اور بی اے ای سسٹمز نے تھاڈ انٹرسیپٹرز کی پیداوار میں چار گنا اضافہ کرنا ہے۔