• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس طرح آج اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو عالمی افق پر عزت و وقار سے نوازا ہے بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور پوری قوم کی اجتماعی دعاؤں کے طفیل ،یہ درحقیقت ہماری 75سالہ تاریخ کی ایک طویل، صبر آزما اور کٹھن جدوجہد کا ثمر ہے۔ الحمدللہ، وہی پاکستان جس کے پاسپورٹ کو کبھی دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا تھا، جسکی معیشت عدم استحکام کا شکار رہی اور جہاں دہشت گردی کے سائے نے زندگی کو مضمحل کر رکھا تھا، آج اللّٰہ تعالیٰ کے فضل اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کے باعث دنیا میں ایک باوقار اور بااعتبار مقام حاصل کر چکا ہے۔آج پاکستان ایک پرامن، ذمہ دار اور اصولوں کا پاسدار ملک بن کر ابھرا ہے ایسا ملک جو اقوامِ متحدہ کے ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی امن اور بھائی چارے کا علمبردار دکھائی دیتا ہے۔ اس حقیقت کی روشن مثال یہ ہے کہ ایران اور امریکہ جیسے ممالک، جو گزشتہ سینتالیس برس سے ایک دوسرے سے فاصلے پر تھے، اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہی میز پر بیٹھ گئے۔ یہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں اور معزز مقام عطا کیا ہے۔ایسے حالات میں ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جو آبادی، رقبے اور معاشی وسعت کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے پاکستان کی اس ابھرتی ہوئی حیثیت کو دیکھ کر واضح طور پر بے چینی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ گزشتہ سال آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کو جس عزت اور کامیابی سے نوازا گیا اور جس طرح آج عالمی سطح پر اسے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، وہ بھارت کیلئے یقیناً باعثِ اضطراب ہے۔ بھارت پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی سے خائف دکھائی دیتا ہے اور کسی ایسے موقع کی تلاش میں ہے جب وہ اپنے دیرینہ عزائم کی تکمیل کر سکے اور پاکستان کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا سکے۔ دوسری جانب، وہ خاموشی کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے، فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور معیشت کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے ناگزیر ہے کہ وہ ایک ایسے حریف سے مکمل آگاہی رکھے جس نے 1947ء سے ہی اسے دل سے تسلیم نہیں کیا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جو بھی بھارتی رہنما پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہوا، اسے انتہاپسند عناصر کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاتما گاندھی، جنہوں نے مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف آواز بلند کی اور مرن برت کے ذریعے امن کا پیغام دیا، خود اسی شدت پسندی کا نشانہ بنے۔ اسی طرح پنڈت جواہر لعل نہرو نے عالمی سطح پر امن کے نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنےکیلئے انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو، چواین لائی، جمال عبدالناصر اور مارشل ٹیٹو کے ساتھ مل کر بنڈونگ کانفرنس میں عدم تشدد کے نظریئے کو فروغ دیا اور پنج شیلا معاہدہ 1955ء میں کیا لیکن پنڈت نہرو اپنے ملک میں حیدر آباد کے قتل عام کو نہ روک سکے اور وہ بھی ہندو انتہا پسندوں کے آگے بے بس دکھائی دیے۔ اسی طرح اندرا گاندھی ،راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی کو بھی شدت پسندوں نے قتل کر دیا ۔بھارت میں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جیسی تنظیموں کا کردار ڈھکا چھپا نہیں، جنہوں نے شدت پسندی کو پروان چڑھایا اور سیاسی فضا کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔اسکے برعکس، پاکستان نے ہر دور میں دنیا کو امن، رواداری اور محبت کا پیغام دیا ۔ لیاقت نہرو معاہدہ، انڈس واٹر ٹریٹی، تاشقند معاہدہ، ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی، نواز شریف کا لاہور معاہدہ اور جنرل مشرف کی آگرہ کوششیںیہ سب اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ حتیٰ کہ ابھینندن کی واپسی جیسے اقدام نے بھی دنیا پر یہ واضح کیا کہ پاکستان کشیدگی کے عالم میں بھی ذمہ داری، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتا ہے۔کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک نہایت حساس اور اہم تنازع ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جسے 1947ء میں فوجی حملے کے ذریعے بھارت کے زیرِ قبضہ لایا گیا اور پانچ اگست 2019ء کے اقدامات کے ذریعے اسے بھارت میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان ہمیشہ اس مسئلے کے پرامن حل کا خواہاں رہا ہے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور برما میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی مضبوط سفارتی پوزیشن اور حالیہ کامیابیوں نے اس کے عزائم کو ناکام بنایا ہے بالخصوص بنگلہ دیش میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے بعد۔ آج جبکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر مقام حاصل کر چکا ہے، یہ ہماری قیادت اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے بالخصوص مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے تاکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسکا منصفانہ حل ممکن بنایا جا سکے۔ آج دنیا پاکستان کی بات نہ صرف سن رہی ہے بلکہ اسے اہمیت بھی دے رہی ہے۔دوسری جانب، بھارت میں بڑھتا ہوا جنگی رجحان بھی تشویش کا باعث ہے۔ جدید دفاعی معاہدے خصوصاً فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن کیساتھ ہونیوالے بڑے معاہدے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اپنی فضائی قوت کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ان تمام حالات کے تناظر میں پاکستان کیلئے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی دفاعی اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط رکھنے کیساتھ ساتھ قومی اتحاد، استحکام اور دانشمندی کا مظاہرہ بھی جاری رکھے۔ ہمیں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کہ ہم اپنے وطنِ عزیز کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کریں گے۔

تازہ ترین