• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تجارتی مذاکرات کے درمیان امریکا کا بھارت پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا فیصلہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکا نے بھارت سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بھارت ان ممالک میں شامل ہے جو جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بھارت پر اضافی ٹیرف کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے جبری مشقت سے تیار اشیاء کی درآمد پر پابندی نافذ کرنے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں سستی دکھائی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار اشیاء کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابلِ قبول ہے جس سے امریکی کارکنوں کو غیر مساوی عالمی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 54 ممالک جن میں بھارت بھی شامل ہے، مجوزہ زیادہ شرح والے محصول کی زد میں آ سکتے ہیں جبکہ 6 دیگر ممالک کو 10 فیصد اضافی محصول کا سامنا ہو گا۔

رائٹرز کے مطابق بھارتی تجارتی ماہر اجے سریواستو نے کہا ہے کہ اس اقدام کو وسیع تر امریکی دباؤ کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور بھارت کو اس معاملے اور دو طرفہ تجارتی مذاکرات کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔

ایک امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کپاس کی عالمی رسد کے ایسے سلسلے میں درمیانی کردار ادا کرتا ہے جس میں چین سے آنے والا جبری مشقت سے منسلک خام مال شامل ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید