• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا بھارت سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر اضافی ٹیرف عائد کرنے پر غور

امریکا بھارت سمیت اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں پر کم از کم 10 فیصد اضافی درآمدی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، یہ اقدام جبری مشقت کے طریقۂ کار سے متعلق تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزر لینڈ جیسے ممالک سے آنے والی مصنوعات پر 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جبکہ کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، تائیوان، برطانیہ اور دیگر ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف لاگو ہو گا۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار نئی دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 3 روزہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

امریکی تجارتی دفتر کی تحقیقات کے مطابق بھارت اُن 54 معیشتوں میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کی یا اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا۔

امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے جبری مشقت سے تیار اشیاء کی درآمد پر پابندی نافذ کرنے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں سستی دکھائی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار اشیاء کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابلِ قبول ہے جس سے امریکی کارکنوں کو غیر مساوی عالمی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بھارتی تجارتی ماہر اجے سریواستو نے کہا ہے کہ اس اقدام کو وسیع تر امریکی دباؤ کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور بھارت کو اس معاملے اور دو طرفہ تجارتی مذاکرات کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔

ایک امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کپاس کی عالمی رسد کے ایسے سلسلے میں درمیانی کردار ادا کرتا ہے جس میں چین سے آنے والا جبری مشقت سے منسلک خام مال شامل ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید