• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات یا محض ڈرامہ؟ ماہرین نے حقیقت بیان کر دی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان شدید اختلافات اور تلخ گفتگو کی خبروں نے ایک بار پھر عالمی میڈیا میں توجہ حاصل کر لی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت بیانات نہیں بلکہ عملی پالیسیوں کی ہوتی ہے اور اس حوالے سے امریکا کی اسرائیلی حمایت میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔

امریکی نشریاتی اداروں میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر نیتن یاہو سے سخت لہجے میں بات کی اور ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی امریکی صدور اور اسرائیلی قیادت کے درمیان کشیدگی کی ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، مگر زمینی حقائق میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی۔

امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سے وابستہ ماہرہ ازابیل ہیزلپ کے مطابق اگرچہ میڈیا میں ٹرمپ کی ناراضی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، لیکن پالیسی سطح پر اسرائیل کو وہی حمایت حاصل ہے جو پہلے تھی۔

دوسری جانب نیشنل ایرانی امریکن کونسل (NIAC) کے پالیسی ڈائریکٹر ریان کوسٹیلو کا کہنا ہے کہ بند کمروں میں ہونے والی ناراضگی کی خبروں کو اب سیاسی مبصرین سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ عملی طور پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے ایسی اطلاعات کا مقصد امریکی عوام یا ایران کو مخصوص سیاسی پیغام دینا ہو، بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کے بعض اقدامات سے مطمئن نہیں، جبکہ حقیقت میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے۔

ادھر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، لبنان میں اسرائیلی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتِ حال کے باعث امریکی انتظامیہ پر بھی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں نے امریکا کو ایک ایسے تنازع میں الجھا دیا ہے جس کے معاشی اور سیاسی اثرات امریکی عوام بھی محسوس کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا کی عملی پالیسیوں میں تبدیلی نظر نہیں آتی، ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کی خبروں کو محتاط انداز میں ہی دیکھنا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید