21 سالہ امریکی گلوکار ڈیوڈ انتھونی برک المعروف D4vd پر 14 سالہ لڑکی سیلسٹے ریواس ہرنینڈز کے قتل کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے، ملزم نے عدالت میں جرم سے انکار کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لڑکی کی لاش گزشتہ ستمبر میں گلوکار کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی سے ملی تھی، لاش ٹکڑوں میں تھی اور خراب ہو چکی تھی۔
مقدمے میں پہلے درجے کے قتل کے علاوہ کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی اور لاش کی بے حرمتی جیسے سنگین الزامات شامل کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق ملزم کو عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔
لاس اینجلس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی نیتھن ہوچمین نے کہا ہے کہ سزائے موت کی درخواست پر بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق مذکورہ لڑکی اپریل 2025ء میں گلوکار کے گھر گئی تھی اور اس کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی، تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ 2023ء سے مسلسل جنسی زیادتی کا شکار تھی۔
ملزم گلوکار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل بے گناہ ہے اور مقدمے میں اس کی بے گناہی ثابت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گلوکار D4vd کو 2022ء میں اپنے ایک گانے کے ذریعے شہرت ملی تھی، تاہم اس کیس کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے موسیقی کے دورے بھی منسوخ کر دیے تھے۔