معروف پاکستانی ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کے بیٹے اور اداکار دراب خلیل کا کہنا ہے کہ والد کے تنازعات نے میرے کیریئر کو متاثر نہیں کیا۔
دراب خلیل نے حال ہی میں ایک ویب شو میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے والد خلیل الرحمٰن قمر کے تنازعات کے اپنے کیریئر پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کی۔
اُنہوں نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے کام دلوانے کے لیے کبھی کسی کو کوئی فون نہیں کیا، میرے والد نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں آپ کو کام دلوانے کے لیے کبھی کسی کو فون نہیں کروں گا کیونکہ اگر مجھے آپ کے لیے کسی کو فون کرنا پڑا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی ہنر نہیں ہے اور اگر آپ کے پاس ہنر نہیں ہے تو آپ کو شوبز چھوڑ دینا چاہیے۔
اداکار نے بتایا کہ میں فلم ساز بننا چاہتے تھا اور اس کے لیے ہمایوں سعید تک پہنچنے میں مجھے 8 سال لگے۔
اُنہوں نے بتایا کہ ڈرامہ سیرل ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں بھی مجھے ہمایوں سعید اور ندیم بیگ نے کاسٹ کیا، میرے والد نے شوبز میں قدم رکھنے کے لیے میری کوئی مدد نہیں کی، اس مقام تک پہنچنے کے لیے میں نے کئی سال محنت کی ہے۔
دراب خلیل نے اپنے والد کے تنازعات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے والد ایک بہت زبردست مصنف ہیں لیکن وہ اکثر ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن سے دوسرے لوگ متفق نہیں ہوتے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کے بارے میں لوگوں کے اختلافِ رائے کو تسلیم کرتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ میرے والد کی وجہ سے کسی نے میرے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ میں والد سے ان کے تنازعات کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتا، میرے والد گھر میں ایک بالکل مختلف آدمی ہیں اور یہ میرا کام نہیں ہے کہ میں اپنے والد کو یہ بتاؤں کہ وہ اپنے پروفیشن میں کیسے آگے بڑھیں۔